جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’پختونخواہ‘ کے ساتھ ’’خیبر‘‘ کیوں لگایا گیا؟ صوبہ خیبر پختونخوا کے نام پر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

datetime 21  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فاٹا سے منتخب سینیٹرز نے کہا ہے کہ فاٹا کو ضم کرنےکی بات ہورہی ہے،ہمیں حیثیت نہیں دی جارہی، ضم یا علیحدہ ہونے پر فاٹا کے عمائدین سے رائے لی جائے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت شروع ہوا،

فاٹا اصلاحات سے متعلق کابینہ سفارشات پر عدم پیش رفت ہونے پر سینیٹ میں سینیٹر ہدایت اللہ کی جانب سے تحریک پیش کی گئی۔فاٹا کے سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ ایف سی آر انگریز کا قانون ہے، جو قانون اپنے لیے پسند کیا جائے وہ ہمارے لیے بھی کیا جائے، فاٹا کو ضم کرنےکی بات ہورہی ہے،ہمیں حیثیت نہیں دی جارہی۔فاٹا سے منتخب ایک اور سینیٹر صالح شاہ نے تحریک پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا مگر اہمیت نہیں دی گئی، کمیٹی میں فاٹا کی نمائندگی نہ ہونے سے مسائل پیدا ہوئے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 247 کو ختم کیا جائے، رپورٹ زمینی حقائق کے خلاف ہے،از سر نو جائزہ لیا جائے،فاٹا عمائدین سے ضم یا علیحدہ صوبہ بنانے پر رائے لی جائے۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کو تمام جماعتوں نے خوش آمدید کہا ہے، اصلاحات کے معاملے پر فاٹا کے ممبران کو لالی پاپ دیا گیا،بجٹ میں ایک روپیہ بھی فاٹا اصلاحات کے لیے نہیں رکھا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت فاٹا اصلاحات کے معاملے سے پیچھے ہٹ گئی ہے،کہیں ایسا نہ ہو کہ رواج ایکٹ آجائے اور لوگ ہمیں برا بھلا کہیں۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اور بلوچستان سے منتخب سینیٹرسردار اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ فاٹا میں عوام کی مرضی کے مطابق تبدیلی ہوگی،جس شخص کو فاٹا کے جغرافیہ کا نہیں پتا وہ فاٹا اصلاحات بنا رہا ہے۔

انہوں ںے سوال اٹھایا کہ پختونخوا کے ساتھ خیبر کیوں لگایا گیا؟یہ ایک نیا تنازعہ ہے، خیبر پختونخوا کا رقبہ بڑھانا ہے تو اٹک،میانوالی کو شامل کرلیں۔سینیٹر ساجد طوری نے کہا کہ ہم اپنا آئینی حق مانگ رہے ہیں جب کہ سینیٹر عثمان کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق اصلاحات کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…