کراچی(این این آئی)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے حوالے سے ثبوت اور تابوت دونوں سپریم کورٹ سے نکلیں گے ۔ آئندہ انتخابات سے قبل ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کو متحد ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔ ایم کیو ایم لندن کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی ۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ایک سازش کے تحت ایک خاص وقت میں لائی گئی ہے ۔
آئندہ 8 ہفتوں کی ملک کی سیاسی تاریخ کا اہم فیصلہ ہو گا ۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا تو (ن) لیگ کے لوگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے ۔ اس وقت بھی 30 ، 35 ارکان موقع کے انتظار میں ہیں ۔ پی ایس 114 کے عوام دیانت دار امیدوار نجیب ہارون کو ووٹ دیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 سے تحریک انصاف کے امیدوار نجیب ہارون ، فردوس شمیم نقوی ، جمال صدیقی اور عوامی مسلم لیگ کے رہنما ریحان شاہ بھی موجود تھے ۔ شیخ رشید نے کہاکہ بعض لوگ پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وہ کامیاب نہیں ہوں گے ۔ جے آئی ٹی میں شریف خاندان ابھی تک منی ٹریل کا کوئی ثبوت نہیں دکھا سکا ہے ۔ انہوں نے پہلے 12 بلین کا حساب دینا ہے ۔ پھر 1600 کروڑ کے دو فلیٹوں کا حساب دینا ہے ۔ میں عدالت میں نواز شریف کو جرح کے لیے بلانے کی درخواست کروں گا ۔ اس وقت پاکستان سیاسی ، معاشی اور کئی حوالوں سے شدید بحران کا شکار ہے ۔ کوئی بھی جماعت نواز شریف کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ یہاں تک کے ان کے حلیف بھی آن بورڈ نہیں ہیں ۔ عدالت سے درخواست کریں گے کہ وہ جلد اس فیصلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں کیونکہ نواز شریف کے خلاف ثبوت اور ان کا تابوت سپریم کورٹ سے ہی نکلے گا ۔
ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے حوالے سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ کیا تحریک انصاف اور آپ اس وقت کے صدر ، وزیر اعظم ، آرمی چیف ، آئی ایس آئی کے سربراہ اور دیگر کے خلاف اس کتاب کی روشنی میں کارروائی کا مطالبہ کریں گے ۔ شیخ رشید نے کہاکہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ایک خاص وقت پر دانستہ طو رپر لائی گئی ہے ۔ تاکہ اصل معاملات سے توجہ ہٹا دی جائے ۔ یہاں پر جس کے پاس پیسے ہیں وہ کچھ بھی کر سکا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست کے حوالے سے آئندہ 8 ہفتے بہت اہم ہیں ۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا تو (ن) لیگ کے لوگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے ۔ اس وقت بھی 30 ، 35 ارکان موقع کے انتظار میں ہیں ۔ قطری خط اس قوم کے ساتھ ایک بہت بڑا مذاق ہے اور یہ تاثر دینا غلط ہے کہ پاکستان میں ملک یا جمہوریت کو خطرہ ہے ۔
نواز شریف ، ضیاء الحق اور جنرل جیلانی کی پیداوار ہیں اور یہ جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی بھی پیداوار ہیں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں فوج سے اپیل کروں گا کہ وہ فوری طور پر آئین کے آرٹیکل 190 کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس ان سے خالی کرائیں گے ۔ یہ وہاں بیٹھ کر سازشیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف اور ان کے ساتھ بار بار سازشوں کی با تکرتے ہیں ۔
قوم کو بتائیں کہ کون ان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے اور نواز شریف خود اپنے خلاف سازشیں کرتے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک اور عدالتی فیصلے کے صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہاکہ میں اس پر صرف اتنا کہتا ہوں کہ لوگ کہتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے اور ہم کہتے ہیں کہ بھٹو مر گیا ہے ۔
کراچی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ میں ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کو عام انتخابات سے قبل ایک ساتھ دیکھ رہا ہوں ۔ ایم کیو ایم لندن کی بدنصیبی ہے کہ اب وہ کہیں دکھائی نہیں دیتی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 9 جولائی کو سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار نجیب ہارون کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں ۔ یہ دیانت دار اور پارٹی کا مخلص کارکن ہے ۔



















































