اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اے ایس پی سپیشل برانچ ارسلہ سلیم کا وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو جے آئی ٹی میں پیشی پر آنے پر سلیوٹ ان کے لئے وبال جان بن گیا۔ انہیں اس حوالے سے ایک لیگل نوٹس بھی بھجوایا جا چکا ہے جو آمنہ ایڈووکیٹ نے بھیجا ہےجبکہ سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے خاتون پولیس افسر کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں پھر ایک یونیفارم میں موجود
پولیس افسر نے انہیں سلیوٹ کیوں کیا ؟ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کی صاحبزادی سلیوٹ کرنے والی خاتون پولیس افسر ارسلہ سلیم کے حق میں سامنے آگئی ہیں اور انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ارسلہ سلیم پر تنقید کرنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم عہدوں کو نہیں بلکہ بیٹیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی آپ کی عزت کرے تو آپ کو بھی بدلے میں اُسے عزت دینی چاہئے۔ سارے سیلوٹ پروٹوکول کے لیے نہیں ہوتے۔ عزت دل میں ہوتی ہے۔
We salute the daughters, not the ranks! If they respect you, respect them back ! All salutes are not protocol. Respect comes from the heart. pic.twitter.com/EkMcpfYRY2
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) July 6, 2017
واضح رہے کہ ارسلہ سلیم نے جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر وزیراعظم کی ـصاحبزادی مریم نواز کو ان کی گاڑی سے نکلتے سلیوٹ کیا اور اسی دوران وزیراعطم کی صاحبزادی مریم نواز کے ہاتھ میں موجود قلم نیچے جا گرا جسے جھک کر ارسلہ سلیم نے اـٹھا کر وزیراعظم کی صاحبزادی کو دے دیا۔ ارسلہ سلیم کو جے آئی ٹی کی جانب سے کی جانے والی درخواست پر آئی جی اسلام آباد نے مریم نواز کی پیشی کے دوران تعینات کیا تھا جن کا کام آمد کے ساتھ ہی مریم نواز کے ساتھ رہنا اور دوران انٹرویو جے آئی ٹی میں موجود رہنا تھا ۔



















































