بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

رکشا ڈرائیور کے ہاتھوں بربریت کا نشانہ بننے والی پاکستان نیوی کی نرس بے ہوشی کی حالت میں ہی دم توڑ گئی

datetime 5  جولائی  2017 |

ساہیوال(آئی این پی)رکشا ڈرائیور کے ہاتھوں بربریت کا نشانہ بننے والی پاکستان نیوی کی نوجوان نرس بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال میں دم توڑ گئی پولیس غلہ منڈی نے گرفتار رکشا ڈرائیور اسلم کے خلاف مقدمہ کی دفعات میں ترمیم کر کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے واقعات کے مطابق 25 جون کو فردوس تبسم عید کی چھٹیاں لے کر روال پنڈی سے ایک کے ذریعہ رات ساڑھے دس بجے کے قریب ساہیوال لاری اڈہ عارف والا بائی پاس پہنچی،

جہاں سے اُس نے اپنے شہر چیچہ وطنی جانا تھا اس نے ایک رکشہ کرایہ پر لیا اور رکشہ ڈرائیور اسلم کو کہا کہ وہ اُسے بیرون لاری اڈہ لے چلے رکشہ ڈرائیور نرس کو ایک ویران جگہ پر لے گیا اس دوران مقتولہ نے مزاحمت کی تو رکشہ الٹ گیا ملزم اُس کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر گھسیٹتا ہوا قریبی کھیتوں میں لے گیا دوپٹہ سے اس کا گلا دبا دیا جب نرس فردوس بے ہوش ہوگئی تو اُسے مردہ سمجھ کر رکشہ چھوڑ کر فرار ہوگیا اس واقعہ کے کچھ دیر بعد ایس ایچ او تھا نہ غلہ منڈی جو کہ گشت پر موجود تھے رکشہ دیکھا تو رُک گئے اور ساتھ کھیتوں میں فردوس تبسم کی کراہنے کی آوازیں آرہی تھی کھیتوں میں جاکر دیکھا تو وہ بے ہوشی کی حالت زور زور سے سانس لے رہی تھی جس پر اُسے ہسپتال پہنچایا گیا اور فردوس کے پاس سے ملنے والے کاغذات کی مدد سے اس کے والدین کو اطلاع دی مقتولہ دو روز بعد سی۔ایم۔ایچ اوکاڑہ اور اُس کے بعد سی۔ایم۔ایچ۔ملتان منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ گذشتہ رات بے ہوشی کی حالت میں دم توڑ گئی اس سے قبل پولیس نے ملزم کو 26 جولائی کو گرفتار کرلیا تھا جس نے بتایا تھا کہ وہ ڈکیٹی کی نیت سے مقتولہ کو لے گیا تھا مزاحمت پر گلا دبا دیا ،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…