پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

سبق

datetime 3  جون‬‮  2017 |

ایک صاحب نے اپنا واقعہ لکھا کہ وہ ایک دوست کے ساتھ ایک نیم صحرائی علاقے میں گئے‘ اتنے میں آندھی کے آثار ظاہر ہوئے‘ دوست نے بتایا کہ اس علاقے میں بڑی ہولناک قسم کی آندھی آتی ہے‘ وہ اتنی تیز ہوتی ہے کہ بڑی بڑی چیزوں کو اڑا کر لے جاتی ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ اس وقت اسی قسم کی آندھی آ رہی ہے‘ اس لئے آپ اپنے بچاؤ کی تدبیر کریں‘ آندھی قریب آ گئی تو میں ایک درخت کی طرف بڑھا تاکہ اس کی آڑ لے سکوں‘

دوست نے مجھے درخت کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو چیخ پڑا‘ اس نے کہا‘ آپ درخت کے نیچے ہرگز نہ جائیے‘ اس آندھی میں بڑے بڑے درخت گر جاتے ہیں‘ اس لئے اس موقع پر درخت کی پناہ لینا بہت خطرناک ہے۔اس نے کہا اس آندھی کے مقابلے میں بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کھلی زمین پر اوندھے منہ ہو کر لیٹ جائیں‘ میں نے دوست کے کہنے پر عمل کیا اور زمین پر منہ نیچے کر کے لیٹ گیا‘ آندھی آئی اور بہت زور کے ساتھ آئی‘ وہ بہت سے درختوں اور ٹیلوں تک کو اڑا کر لے گئی لیکن یہ سارا طوفان ہمارے اوپر سے گزرتا رہا اور زمین کی سطح پر ہم محفوظ پڑے رہے‘ کچھ دیر کے بعد جب آندھی کا زور ختم ہوا تو ہم اٹھ گئے‘ میں نے محسوس کیا کہ دوست کی بات بالکل درست تھی‘ آندھیاں اٹھتی ہیں تو ان کا زور ہمیشہ اوپر رہتا ہے‘ زمین کے نیچے کی سطح اس کی براہ راست زد سے محفوظ رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آندھی میں کھڑے ہوئے درخت تو اکھڑ جاتے ہیں مگر زمین پر پھیلی ہوئی گھاس بدستور قائم رہتی ہے‘ ایسی حالت میں آندھی سے بچاؤ کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر یہ ہے کہ وقتی طور پر اپنے آپ کو نیچا کر لیا جائے‘ یہ قدرت کا سبق ہے جو بتاتا ہے کہ زندگی کے طوفانوں سے بچنے کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ جب آندھی اٹھے تو وقتی طور پر اپنا جھنڈا نیچا کر لو‘ کوئی شخص اشتعال انگیز بات کہے تو تم اس کی طرف سے اپنے کان بند کر لو‘

کوئی تمہاری دیوار پر کیچڑ پھینک دے تو اس کے اوپر پانی بہا کر اسے صاف کر دو‘ جب تم ایسا کر لو گے تو حالات کی بڑی سے بڑی آندھی بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…