جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

استصوابِ رائے

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

حضرت عثمانؓ کو جس مسئلہ میں شبہ ہوتااور اس کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم نہ کر سکتے تو دوسرے صحابہ سے استفسار فرماتے اور عوام کو بھی ان کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ ایک دفعہ سفر حج کے دوران ایک شخص نے پرندہ کا گوشت

پیش کیا جو شکار کیا گیا تھا۔ جب آپ کھانے کے لیے بیٹھے تو شبہ ہوا کہ حالت احرام میں اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ حضرت علیؓ بھی ہم سفرتھے۔ ان سے استصواب کیا انہوں نے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا تو حضرت عثمانؓ نے اسی وقت کھانے سے ہاتھ روک لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…