منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

وفاقی اورصوبائی حکومتیں ہر طرح کے فیصلے میں آزاد، 26ویں ، 27ویں آئینی ترمیم کی حیرت انگیزتفصیلات سامنے آگئیں

datetime 5  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بلز اتفاق رائے اور پبلک انٹرسٹ ڈسکلوژر بل 2017 کوکثرت رائے سے منظور کر لیا۔26ویں آئینی ترامیم کے تحت وزیرمملکت کو بھی وفاقی کابینہ کاحصہ تصور کیا جائے گا،وفاقی حکومت اپنے امور سرانجام دینے کیلئے اختیارات کسی کو بھی تفویض کرسکے گی اور وفاقی و صوبائی حکومتیں کو ئی بھی فیصلہ کرنے سے

قبل کابینہ سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی،27ویں آئینی ترامیم کے تحت نگران کابینہ میں وزراء کی تعداد 10 سے زائد نہیں ہو گی، الیکشن کمیشن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کریگا،بلدیاتی انتخابات کی مدت ختم ہونے کے 120 روز میں کرانا لازم ہوں گے۔پبلک انٹرسٹ ڈسکلوژر بل کے تحت کسی بھی ادارے یا وزارت میں کرپشن یا بے قاعدگی والے سرکاری ملازم کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور اسکانام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، متعلقہ ادارے کے سربراہ کے علاوہ شکایت کی تحریری کاپی اوپر اتھارٹی کو بھی بھیجی جائیگی،بد عنوانی یا بے قاعدگیوں کہ شکایات پر متعلقہ ادارے کا سربراہ سالانہ رپورٹ جاری کرنے کا پابند ہوگا۔ بدھ کو کمیٹی کا اجلاس چیئر مین محمود بشیر ورک کی زیرصدارت ہوا،جس میں کمیٹی ارکان ،وفاقی وزیر قانون زاہد حامد ،وزیر اعظم کے معاون خصوصی بر سٹر ظفر اللہ،وفاقی سیکر ٹری وزارت قانون سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے پبلک انٹرسٹ ڈسکلوڑر بل 2017 پیش کرتے ہوئے کہا کہ بل کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریگا،کرپشن کے خلاف معلومات دینے والے کو تحفظ ملے گا، بل کرپشن کے خاتمے کی جنگ سے متعلق بل ہے،اگر کہیں قواعد کی بے ضابطگی ہوگی تو کوئی ملازم اس کی شکایت کرسکے گا،

بل کے تحت کرپشن یا بے قاعدگی کی نشاندہی کرنے والے کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی،بل کے تحت کرپشن کی نشاندہی کرنے والے اہلکار کو تحفظ اور نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا،کسی بھی ادارہ کا اہلکار متعلقہ ادارے کے سربراہ کو شکایت کریگا،ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اگر کرپشن یا بے قاعدگی میں متعلقہ ادارہ کا سربراہ ملوث ہو تو پھر ؟ میری تجویز ہے کہ متعلقہ ادارے کے سربراہ کے علاوہ اس کے اوپر اتھارٹی کو بھی شکایت کی کاپی بھجوانی چاہیے،جس پروزیر قانون زاہد حامد نے بل میں عارف علوی کی تجویز شامل کرنے کی حامی بھر لی،وزیر قانون نے کہا کہ بد عنوانی یا بے قاعدگیوں کہ شکایات پر متعلقہ ادارے کا سربراہ سالانہ رپورٹ جاری کرنے کا پابند ہوگا،رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائیگی، غلط معلومات فراہم کرنے پر شکایت کنندہ کو ایک سال قید کی سزا دی جائیگی، بل پر پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ بل بہت اچھا ہے مگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے،بل کو آئندہ اجل؛اس تک موخر کیا جائے تاکہ اس پر مزید بحث ہو سکے،

جس پر چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ جب تمام ارکان بل کو اچھا کہہ رہے ہیں تو پھر اسکو مزید تاخیر کئے بغیر پاس کر دینا چاہیے،جس پر چیئر مین کمیٹی نے ووٹنگ کے بعد بل کثرت رائے سے منظورکر لیا۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی بر سٹر ظفر اللہ نے 26ویں آئینی ترامیم کا بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بل کے تحت وزیرمملکت کو بھی وفاقی کابینہ کاحصہ تصور کیا جائے گا،وفاقی حکومت اپنے امور سرانجام دینے کیلئے اختیارات کسی کو بھی تفویض کرسکے گی،سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ وزیراعظم اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، ہر کام میں وفاقی کابینہ کی منظوری لینی پڑے تو حکومت کیسے چلے گی، بل کے تحت متعلقہ شقوں کو 1973 کے آئین کی اصل شکل میں بحال کر دیاجائے گا، یہ نہیں کہنا چاہتا کہ 18ویں ترمیم میں کچھ خامیاں چھوڑ دی گئی تھیں،

برسٹر شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ وزیر اعظم کو چھوٹے سے چھوٹے کام کیلئے بھی کابینہ کی منظوری لینی پڑتی ہے اسکے علاوہ چاروں صوبائی حکومتوں کا بھی یہی حال ہے۔جس پرکمیٹی نے 26ویں آئینی ترمیم کے بل کی متفقہ طور پر منظوری دیدی،قائمہ کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری دیدی،بل کے تحت الیکشن کمیشن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گا، بلدیاتی انتخابات کی مدت ختم ہونے کے 120 روز میں انتخابات کرانا لازم ہوں گے، نگران کابینہ میں وزراء کی تعداد 10 سے زائد نہیں ہوسکے گی۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…