منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

شام کو عبدالوحید نے اپنے مریدوں کو گناہوں سے چھٹکارا دلانے کا سلسلہ شروع کیاپہلا شخص میں تھا،عینی شاہدنے سب کچھ بتادیا

datetime 4  اپریل‬‮  2017 |

سرگودھا(این این آئی)سرگودھا میں درگاہ کے متولی کے ہاتھوں 3 خواتین سمیت 20 افراد کے بہیمانہ قتل کے عینی شاہدین نے کہاہے کہ مقتولین عبدالوحید کے سامنے اپنے گناہوں سے خلاصی کیلئے پیش ہوئے تھے ٗ عبدالوحید نے انہیں بری طرح مار پیٹ کا نشانہ بنا کر گناہوں سے صاف کیا۔ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال سرگودھا میں زیر علاج محمد توقیر نے بتایا کہ اپنے پیر کے بلانے پر جمعہ کی نماز کے بعد میں نے درگاہ کا رخ کیا

ٗشام کو عبدالوحید نے اپنے مریدوں کو گناہوں سے چھٹکارا دلانے کا سلسلہ شروع کیا۔محمد توقیر کے مطابق میں اس عمل سے گزرنے والا پہلا شخص تھا ٗمجھے عبدالوحید نے کپڑے اتارنے کا حکم دیا اور اس کے بعد لاٹھی کے وار شروع کردیئے، سر پر لاٹھی کے مسلسل وار سہنے کے بعد میں بے ہوش ہوگیا، جس کے بعد مجھے ہفتے کی صبح ہوش آیا ٗ میرے آس پاس مردہ لوگ موجود تھے۔متاثرہ شخص نے بتایا کہ ہلنے جلنے کی ہمت نہ ہونے کی وجہ سے وہ وہیں لیٹا رہا جبکہ اتوار کے روز پولیس نے آکر اسے ہسپتال منتقل کیا۔توقیر ان چار زخمیوں میں سے ایک ہے جو متولی کے تشدد سے گزرنے کے بعد زندہ بچ جانے میں کامیاب رہے، ان ہی چار افراد میں سے ایک شخص نے وہاں سے بھاگ کر پولیس کو سارے معاملے کی اطلاع دی۔سرگودھا میں درگاہ کے متولی کے ہاتھوں 3 خواتین سمیت 20 افراد کے بہیمانہ قتل کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں متولی عبدالوحید اور ان کے دو ساتھیوں کے خلاف درج کرلیا گیا۔پاکستان پینل کوڈ کے دفعات 302، 353، 354، 156 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر میں وحید اور اس مکروہ فعل میں سہولت فراہم کرنے والے اس کے دونوں ساتھیوں کو شامل کیا گیا۔خیال رہے کہ ضلع سرگودھا سے 17 کلومیٹر فاصلے پر چک 95 شمالی میں گذشتہ دنوں رونما ہونے والے خوفناک واقعے میں درگاہ علی محمد قلندر

کے متولی نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ لاٹھیوں اور چاقوؤں کے وار سے 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھاواقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری درگارہ پہنچی اور درگاہ کے متولی عبدالوحید کو اس کے 4 ساتھیوں سمیت گرفتار ٗ 19 افراد کی لاشیں برآمد کرکے انھیں اور چند زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ملزم کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی عمریں 30 سے 40 سال کے درمیان تھیں جبکہ ان میں بزنس گریجویٹ، پولیس اہلکار اور سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا بیٹا بھی شامل تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…