منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان میں سنگین بحران نے سِر اُٹھالیا،حکمران لمبی تان کرسوگئے،انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)واپڈا کے ایڈوائرزر برائے ڈیمز ڈاکٹرز اظہار الحق نے کہا ہے کہ منگلا اور تربیلا میں سلٹ آنے وکی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 40فیصد تک کم ہو چکی ہے ،پاکستان میں حکمران ، ادارے اور عوام سب پانی ضائع کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے پاکستان انجینئرنگ کانگریس کے زیر اہتمام ورلڈ واٹرڈے کی مناسبت سے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں

نے کہا کہ پاکستان میں حکمران ، ادارے اور عوام سب پانی ضائع کرنے پر لگے ہوئے ہیں، بد قسمتی سے 37سال سے کوئی بڑا ڈیم نہیں بن سکا،پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے ، منگلا اور تربیلا میں سلٹ آنے وکی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 40فیصد تک کم ہو چکی ہے ، لاہور کراچی جیسے شہروں میں پانی میسر نہیں باقی شہروں کا تو اللہ حافظ ہے ۔پاکستان انجینئرنگ کانگریس کے صدر چوہدری غلام حسین کا کہنا تھاکہ پانی کا مسئلہ سنگین تر ہو گیا ہے ۔بڑے شہروں میں 60فیصد تک پانی ضائع کر دیا جاتا ہے حالانکہ اسے صاف کر کے دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے لیکن کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔ انجینئر افتخار الحق اور انجینئر ریاض تارڑ کا کہنا تھاکہ بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کو فوری نہ بنایا گیاتو سندھ والوں کو چند سال بعد موجودہ حصہ والا پانی بھی نہیں ملے گا ، حکمران ہوش کے ناخن لیں اور پانی کا مسئلہ مل بیٹھ کر حل کریں ،ناقص پالیسیوں سے قحط سالی مقدر بنتی جارہی ہے ، نئی نسل پانی کہاں سے لائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی ضائع کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔چالیس سال سے کوئی ڈیم بنا سکے اور نہ ہی پانی کو دوبارہ استعمال کرنے پر کام کیا گیا ۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…