جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی اورامریکی دستوں کو خونریز میدان جنگ میں بڑی شکست،طالبان کے مکمل قبضے کی تصدیق

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی )طالبان نے افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین پر مکمل قبضہ کرلیا ، پولیس اہلکار نے9 ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔افغان میڈیا کے مطابق سنگین کے پولیس سربراہ محمد رسول نے کہا ہے کہ طالبان جنگجو گزشتہ روز ضلعی مرکز میں پہنچ گئے۔ سنگین کو ایک دور میں برطانوی اور امریکی دستوں کیلیے ایک خونریز میدان جنگ قرار دیا جاتا رہا ہے،

اس ضلع پر قبضہ طالبان کی ان کوششوں کا ایک حصہ ہے جن کا مقصد ہلمند میں اپنے اثر و نفوذ کو بڑھانا ہیصوبائی دارالحکومت لشکرگاہ سمیت صوبہ ہلمند کا بہت سا علاقہ پہلے ہی طالبان کے قبضے میں ہے جبکہ صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواق نے کہا کہ سرکاری فورسز نے ضلع سنگین کے پولیس ہیڈکوارٹرز اور گورنر آفس خالی کر دیا ہے، انھوں نے کہا کہ فورسز ضلع کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیں گی جس کیلیے فورسز تیاری کر رہی ہیں۔اس سے قبل امریکا نے اعلان کیا تھا کہ وہ موسم گرما کے دوران ہلمند میں 300 فوجی تعینات کرے گا، دریں اثنا صوبہ قندوز کے شمالی علاقے میں ایک پولیس اہلکار نے اپنے9 ساتھی اہلکاروں کو جو سو رہے تھے، انھوں نے کہا کہ فورسز ضلع کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیں گی جس کیلیے فورسز تیاری کر رہی ہیں۔اس سے قبل امریکا نے اعلان کیا تھا کہ وہ موسم گرما کے دوران ہلمند میں 300 فوجی تعینات کرے گا، دریں اثنا صوبہ قندوز کے شمالی علاقے میں ایک پولیس اہلکار نے اپنے9 ساتھی اہلکاروں کو جو سو رہے تھے،گولی مار کر ہلاک کر دیا۔علاوہ ازیں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک سیکیورٹی پوسٹ پر ہونے والی اس کارروائی کی ذمے داری قبول کر لی ہے، صوبہ قندھار کے ضلع نشا میں پولیس چوکی کے نزدیک خودکش حملہ آور کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…