جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی سے الگ الگ ملاقاتیں

datetime 22  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے الگ الگ ملاقاتیں کیں،جن میں ملک کی موجودہ سیاسی،قومی اہمیت اور امن وامان سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے بدھ کے روز ایوان وزیراعظم میں وزیراعظم

نوازشریف سے ملاقات کی،ملاقات میں سینیٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع سے متعلق بل پر حمایت طلب کی اور شکوہ کیا کہ ایک روز قبل قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں میں توسیع کے بل پر آپ اور پشتونخوا عوامی پارٹی کی مخالفت کے باعث اپوزیشن جماعتوں کو حکومت پر تنقید کا موقع مل گیا ہے،جب اتحادی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں تو ایسے حالات میں مخالفین کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں،حالانکہ ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے اور ایسے نازک حالات میں بے جا تنقید سے مزید انتشار پھیلے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔جے یو آئی(ف)کو اس بل پر تحفظات ہیں تو قومی اسمبلی میں مخالفت کی بجائے کم از کم ہمیں پہلے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا جاتا تو ہم آپ کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرتے۔مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مؤقف اپنایا کہ ہم حکومتی اتحادی ہیں لیکن مذہب اور مسلک پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔اگر حکومت اس بل سے مذہب اور مسلک کے الفاظ نکال دے تو ہم اس کی بھرپور حمایت کریںگے۔مولانا فضل الرحمان نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد سینیٹ میں بل کی منظوری سے متعلق فیصلے کی حامی بھرلی۔ قبل ازیں وزیر اعظم نواز شریف نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے دوران قومی اسمبلی میں ان کی

جماعت کے جانب سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے بل پر مخالفت کے حوالے سے شکوہ کیا اور سینٹ سے اس بل کی منظوری کے لئے حمایت طلب کی جس پر محمود خان اچکزئی نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔خیال رہے کہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کو بل کی قومی اسمبلی میں مخالفت کے بعد وزیراعظم کے جانب سے ملاقات کیلئے بلایا گیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ

بلوچستان کی ترقی کیلئے انقلابی اقدمات کررہے ہیں جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔گوادر اور سی پیک سمیت بلوچستان کے لئے وفاقی حکومت نے جو منصوبے شروع کئے ہیں وہ بلوچستان کی ترقی کیلئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ان منصوبوں کی تکمیل سے بلوچستان کے عوام ہی استفادہ کرسکیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…