بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سخت ترین قوانین ہونے کے باوجود سعودی عرب میں ہر روزایک جیسی 38وارداتیں، پولیس بے بس،حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں چوری کے سخت ترین قوانین کے باوجود گاڑیوں کی چوری کاسلسلہ جاری ہے ۔سعودی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں روزانہ 38گاڑیوں کاچوری ہوناایک معمول بن گیاہے لیکن سعودی پولیس ان چوری ہونے والی گاڑیوں میں بہت کم بازیاب کراسکی ہے ۔

سعودی وزارت داخلہ نے اپنی رپورٹ میں مزیدکہاہے کہ ان چوری شدہ گاڑیوں کے بارے میں حکام کویہ خدشہ رہتاہے کہ یہ گاڑیاں کہیں کسی دہشتگردی کی واردات میں استعمال نہ ہوجائیں جوکہ اس وقت دنیامیں ایک بڑاخطرہ ہے ۔وزارت کی طرف سے گزشتہ سال 2016کے اعدادوشمارکے مطابق صرف جنوری میں 1341گاڑیاں چوری ہوئیں ،ریاض ،جدہ ،مکہ ،مدینہ ،تبوک اوردمام میں گاڑیوں کی چوری کی سب سے زیادہ وارداتیں ہوئیں جبکہ اس سے قبل 2014میں 15ہزارسے زائدگاڑیاں چوری ہوئیں اور 2013میں چوری ہونے والی گاڑیوں کی تعداد9ہزاررہی اوران میں سے پولیس نے 4600کے قریب گاڑیاں بازیاب کروالی تھیں ۔سعودی وزارت کی رپورٹ کے مطابق چوری شدہ گاڑیوں کودوسرے شہروں میں پارٹس کی شکل میں فروخت کردیاجاتاہے اورجرائم پیشہ افراد گاڑیوں کودوسرے شہروں میں منتقل کرنے کےلئے نمبرپلیٹس بھی تبدیل کردیتے ہیں ۔سعودی عرب کے معروف ادارے پرنس فائف فارسکیورٹی سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق گاڑی کی چوری کی وارداتوں میں زیادہ تربے روزگارافراد ملوث ہیں جبکہ گاڑیوں کی دوڑکے شوقین بھی اس دھندے میں ملوث ہیں ۔رپورٹ کے مطابق گاڑیاں چوری ہونے کی ایک وجہ مالکان کی غفلت جبکہ دوسری وجہ کمزورمانیٹرنگ سسٹم کوقراردیاگیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…