ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

صدیق اکبرؓ کے صدق و وفا کی انتہاء

datetime 31  جنوری‬‮  2017 |

جب غار ثور میں پہنچنے کیلئے پہاڑ پر چڑھنے کا وقت تھا تو نبی اکرمﷺ پاؤں کے پنجے لگا رہے تھے اور ہاتھوں کے بل اوپر چڑھ رہے تھے‘ پورا پاؤں نہیں لگا رہے تھے۔ اسی طرح چڑھنے کا مقصد یہ تھا کہ قدموں کے نشان نہ لگیں تاکہ دشمن قدموں کے نشان دیکھ کر پیچھے نہ آ جائیں۔ جب حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ دیکھا کہ محبوبﷺ زمین پر پورے پاؤں نہیں لگا رہے فقط پنجے لگا رہے ہیں تو آپﷺ سے عرض کیا‘ اے اللہ کے محبوبؐ ابوبکر حاضر ہے۔ مہربانی فرمائیے آپ میرے کندھوں پر سوار ہو جائیے‘ چنانچہ نبیﷺ ان کے کندھوں پر سوار ہوئے اور وہ نبی کریمﷺ کو لے کر غار ثور تک پہنچے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…