اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما لیکس،اگر سپریم کورٹ نے کیش ٹرانزیکشن کو تسلیم کر لیا تو پھر ۔۔! اعتزاز احسن نے تباہ کن پیش گوئی کردی

datetime 30  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پیپلز پارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے کیش ٹرانزیکشن کو تسلیم کر لیا تو پھر ایف بی آر اور سی بی آر کا سارا نظام تباہ ہو جائے گا‘ شریف خاندان نے یہ کس قسم کی فنانشل انارکی اور مالیاتی طوائف الملوکی پیدا کر دی‘ شریف خاندان کا کونسا فرد قطر میں انکا کاروبار دیکھ رہا ہے‘منی ٹریل قطری خطوں سے نہیں بنے گی‘

قطری شہزاوں کا خط اوپن منی لانڈرنگ کا اعتراف ہے شریف خاندان کے لیے کیس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگیا جائز ذرائع ثابت کرنا شریف خاندان کا کام ہے‘ یہ منی لانڈرنگ کیلئے ہر بزنس مین کو سہولت پیدا کر سکتا ہے‘ کوئی بھی کسی عربی سے خط لے کر اسے 10 کروڑ دیدے، اس طرح تو ہر کالادھن سفید ہو جائے گا ‘سپریم کورٹ کی آبزرویشنز سے لگتا ہے کہ نواز شریف کیلئے ماضی کی طرح نرمی برتی جا رہی ہے‘ امید ہے ماضی کی طرح اس مرتبہ سپریم کورٹ کرپشن کی بنیاد پر نواز شریف کے ساتھ نرمی نہیں برتے گی‘ توقع ہے عدالت ایسا فیصلہ نہیں دے گی جس سے انارکی پھیلے۔لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ منی ٹریل کو جائز ثابت کرنا شریف خاندان کا کام ہے، سپریم کورٹ نے کرپشن کے معاملہ پر ہمیشہ نواز شریف کیلئے نرمی دکھائی، ماضی میں سپریم کورٹ نے کرپشن کی بنیاد پر برطرف بینظیر کی حکومت کو بحال کرنے سے انکار کیا اور انہی الزامات پر نواز شریف کی حکومت فورا بحال کر دی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کا کونسا فرد قطر میں انکا کاروبار دیکھ رہا ہے۔ منی ٹریل قطری خطوں سے نہیں بنے گی۔ منی ٹریل بنکوں کے کھاتوں سے بنے گی‘ قطری شہزاوں کا خط اوپن منی لانڈرنگ کا اعتراف ہے شریف خاندان کے لیے کیس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگیا جائز ذرائع ثابت کرنا شریف خاندان کا کام ہے ‘

اگر سپریم کورٹ نے قطری خطوط کو تسلیم کر لیا تو ہر شخص کو کالا دھند سفید کرنے کی سہولت مل سکتی ہے‘ یہ منی لانڈرنگ کیلئے ہر بزنس مین کو سہولت پیدا کر سکتا ہے۔ کوئی بھی کسی عربی سے خط لے کر اسے 10 کروڑ دیدے، اس طرح تو ہر کالادھن سفید ہو جائے گا کون سا شخص 28 سال تک قطر میں بیٹھ کر کاروبار کی دیکھ بھال کرتا رہا؟ شریف خاندان کے تمام افراد کے بینک اکانٹس کی چھان بین نہ ہوئی تو منی ٹریل کا پتہ لگانا ناممکن ہے ‘شریف خاندان کے تمام افراد کے بینک اکانٹس کی چھان بین تک منی ٹریل کا پتہ لگانا ممکن نہیں، عجیب بات ہے کہ پورا خاندان ایک دوسرے کو اربوں روپے کے تحائف دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میاں شریف نے قطری فیملی کے ساتھ اربوں روپے کا کاروبار کیا جس کا حاصل 8 رب روپے تھا‘ سارا کاروبار کیش میں کیا گیا اور لاکھوں ڈالر بوریوں میں ڈال کر گدھوں پر لاد کر آتے جاتے رہے ، ان پیسوں کی گنتی کون کرتا رہا اور شریف خاندان کا کون سا فرد اس سارے عرصے کے دوران قطر میں بیٹھ کر کاروبار کی دیکھ نگرانی کر تا رہا ۔

انہوں نے کہا کہ دیگر فریقین پر بار ثبوت اتنا ہی تھا کہ فلیٹ ان کی ملکیت ثابت کر دیں اور اب بار ثبوت شریف خاندان پر ہے کہ وہ ثابت کریں کہ یہ فلیٹ جائز ذرائع سے لئے گئے۔ اور جائز ذرائع وہ ہوتے ہیں جو بینک کی ٹرانزیکشن کے ذریعے ثابت ہو سکے، اگر سپریم کورٹ نے کیش ٹرانزیکشن کو تسلیم کر لیا تو پھر ایف بی آر اور سی بی آر کا سارا نظام تباہ ہو جائے گا‘ شریف خاندان نے یہ کس قسم کی فنانشل انارکی اور مالیاتی طوائف الملوکی پیدا کر دی ہے‘کون سا ایف آئی اے اور کون سا نیب ایسے کاروبار کو جائز تسلیم کر سکتا ہے جس کی بینکنگ ٹرازیکشن کا ثبوت ہی نہ ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کو گزشتہ سال 30 لاکھ روپے گفٹ کیا اور وہ بینک کے ذریعے دیا کیونکہ انکم ٹیکس افسر نے کہا کہ اگر کیش دیدیا تو اسے ہم گفٹ تسلیم نہیں کریں گے بلکہ آمدن تسلیم کریں گے اور اس پر ٹیکس عائد ہو گا ، اگر آپ بیٹے کو گفٹ دینا چاہتے ہیں تو بینک ٹرانزیکشن تو ہم گفٹ نہیں آمدن مانیں گے اور اس پر ٹیکس لگے گا، اگر بیٹے کو گفٹ دینا ہے تو چیک کے ذریعے دیں، بینکنگ ٹرانزیکشن کے ذریعے دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…