ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

قندھارحملے اور ہمارے سفارتکاروں کی ہلاکت کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں،امارات نے افغان حکومت کو ہی بڑا جھٹکادیدیا

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

دبئی (این این آئی) دبئی پولیس کے سربراہ ضاعی خلفان تمیم نے افغان سیکیورٹی فورسز کو قندھار میں حملے کا ذمہ دارقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت سے ظاہرہوتاہے کہ حملے کی ذمہ داری افغان سیکیورٹی فورسز کی بنتی ہے۔ دبئی پولیس کے سربراہ کا بیان قندھار میں اس خود کش حملے کے چند دن بعد آیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے 5 سفارتکاروں سمیت 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے، دھماکہ میں یو اے ای کے سفیر اور گورنر قندھار بھی زخمی ہوئے تھے، طالبان نے دھماکہ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکے کی وجہ قندھار کے حکام کی اندرونی چپقلش ہے۔

دبئی پولیس کے سربراہ نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ افغانستان کے سیکیورٹی ادارے اس واقعہ کے براہ راست ذمہ دار ہیں جس میں متحدہ عرب امارات کے سفیر اور سفارتکاروں کو جانی نقصان پہنچاہے، انہوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد وہاں پر پہلے سے موجود تھا اور اس علاقے کی سیکیورٹی کی ذمہ داری افغان سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری تھی کیونکہ یہ علاقہ ان کے زیر کنٹرول تھا ۔ ایک اور بیان میں انہوں نے قندھار کے واقعہ کو خیانت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملہ باہر سے کیا جاتا تو وہ ایک الگ معاملہ تھا لیکن دھماکہ عمارت کے اندر ہوا ہے اسی وجہ سے یہ ایک خیانت کا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو اقوام متحدہ کے ذریعے امداد دینی چاہئے کیونکہ اگر باہر سے لوگ خود امداد دینے جاتے ہیں تو افغان حکام کے اندرونی اختلافات اور دشمنیوں کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔دبئی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ اگر دیگر ممالک افغانستان کیساتھ امداد چاہتے ہیں تو وہ اقوام متحدہ کے اداروں کے ذریعے کام کریں اور باہر کے لوگ خود ان باؤلے کتوں کے درمیان نہ جائیں جو ایک دوسرے کے قتل میں ملوث ہیں، انہوں نے افغانستان میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے امدادی اداروں کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔

دھماکے کے بعد افغانستان میں قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق کے کردار پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ، جنرل رازق دھماکے سے پہلے پراسرار طور پر گورنر کے مہمان خانے سے باہر چلے گئے جب وہاں متحدہ عرب امارات کے سفارتکار اور دیگر حکام موجود تھے اور ان کی موجودگی میں دھماکہ ہوا۔مقامی حکام کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں رکھا گیا تھا اور گاڑی گیسٹ ہاؤس کے اندر کھڑی تھی، رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مواد مہمان خانے کے اندر کرسیوں کیساتھ لگایا گیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…