جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارت میں سچ بولنے کی سزاموت ہے، پاکستان کے معروف اداکار نے ایسا کیوں کہا؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی) بالی ووڈ کے ورسٹائل اداکار اوم پوری کی پراسرار موت نے پاکستانی فنکاروں کوبھی ہلا کررکھ دیا ہے۔ کسی نے ان کی موت پاکستان سے محبت اور چاہت کو قراردیا ہے توکسی نے اس حوالے سے تحقیقات بھارتی حکومت آلہ کار پولیس سے نہیں بلکہ کسی بین الاقوامی تحقیقاتی کمپنی سے کروانے کی خواہش ظاہرکردی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے اداکار نیئراعجاز نے کہا کہ اوم پوری ایک بہترین اداکارتھے۔ ان کی فنی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
ان کی لازوال اداکاری نے کئی فلموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یادگاربنا دیا۔ ان کی موت پردنیا بھرمیں ان کے چاہنے والے افسردہ تھے لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ اورملے جلے بیانات نے اس کیس کوایک نئی سمت موڑ دیا ہے۔ اس کی تحقیقات اعلیٰ پیمانے پرہونی چاہیے تاکہ ان کے چاہنے والوں کے سامنے حقائق آسکیں۔اداکارہ ماہ نورنے کہا کہ اوم پوری صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشترممالک کی فلموں اوردیگرپروجیکٹس میں کام کرنے والے ورسٹائل اداکارتھے۔
ان کواگرسوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے تواس کے پیچھے کام کرنے والوں کوسامنے لایا جائے۔ ان کا ایک بیان انتہا پسند ہندوؤں کواتنا چبھا کہ ان کو’’ مہان سے شیطان ‘‘ بنادیا گیا۔اس موقع پرہی ان کومارنے کی دھمکیاں ملنے لگی تھیں اوراس حوالے سے بہت سی خبریں سوشل میڈیا پرگردش کررہی تھیں۔ اب تویوں ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ قدرتی موت نہیں بلکہ پلاننگ سے کی جانے والی کارروائی ہے جس کے حقائق سامنے آنے چاہئیں۔اداکارہ ریجاعلی نے کہا کہ اوم پوری جیسے خوبصورت اداکاراورانسان کواگرواقعی ہی اس قدر بے دردی سے مارا گیا ہے تواس پرجتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ اس سے بھارت کا اصل اور ’’مہان ‘‘چہرہ سامنے آگیا ہے۔ فلم، ڈراموں اورسیاسی پنڈالوں میں انسانیت، محبت اوربھائی چارے کا بھاشن دینے والوں نے ایک معصوم فنکارکواس قدرستایا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار رہنے لگے تھے۔ اس سے ایک بات توثابت ہوجاتی ہے کہ بھارت میں سچ بولنے کی سزا موت سے کم نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…