سکوجی(این این آئی)مقدونیہ میں سربیا کی سرحد پر سیکورٹی کے لیے مامورمسیحی پولیس اہلکارکو مسلمان لڑکی سے محبت کے بعددونوں نے شادی رچالی ،
غیرملکی خبررساں ادارے کے مابق آرتھوڈوکس مسیحی عقیدے سے تعلق رکھنے والا پولیس محافظ بوبی دودفسکی اور کرد مسلمان نورا ارکنازی ایک ہی نگاہ میں محبت میں گرفتار ہو گئے۔ مارچ میں کیچڑ آلود سرحد پر ان دونوں کی نگاہیں تب ٹکرائیں، جب نورا دیگر مہاجرین کے ساتھ مقدونیہ سے سربیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں اور بوبی ان پولیس اہلکاروں میں شامل تھے، جنہیں ان مہاجرین کو سرحد کی جانب بڑھنے سے روکنا تھا۔
ان دونوں کی نگاہیں چار ہوئیں اور پھر محبت کی کہانی اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ چند ہی ماہ بعد دونوں نے شادی بھی کر لی۔ بوبی مقدونیہ کے شمالی قصبے کْمانووو میں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں اپنی بیوی نورا کے ہم راہ خوشی خوشی زندگی بسر کر رہے ہیں۔نورا کا تعلق عراقی شہر دیالا سے ہے۔ وہاں شروع ہونے والی لڑائی کے دوران شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں نے اس کے انجینیئر والد کو اغوا کر لیا اور ان کی رہائی کے لیے ہزاروں ڈالر کا تاوان طلب کیا۔ وہ بہت مشکل ہی سے گھر واپس لوٹے۔ اسی وجہ سے یہ گھرانہ یہ علاقہ چھوڑ کر یورپ کی جانب ہجرت پر مجبور ہو گیا۔



















































