اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پناہ گزینوں کی آمد،ترکی نے انوکھا حل ڈھونڈ نکالا،پاکستان کیلئے بڑا سبق

datetime 17  دسمبر‬‮  2016 |

انقرہ(این این آئی)کہ ترکی نے شام کے اندر ہی حلب کے پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کے لیے ایک کیمپ قائم کرنے کا کام شروع کردیاجبکہ حلب سے 55 زخمیوں اورمریضوں کو علاج کے لیے ترکی پہنچایا گیا، زخمیوں میں سے ایک شخص اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا جب کہ ایک بچے سمیت چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک حکام نے بتایا کہ ترکی نے شام کے اندر ہی حلب کے پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کے لیے ایک کیمپ قائم کرنے کا کام شروع کردیا ہے تاہم حلب سے لائے جانے والے زخمیوں اور مریضوں کا ترکی کے اسپتالوں میں علاج کرایا جائے گا۔دو ترک عہدیداروں نے بتایا کہ ترکی کی سرحد سے ساڑھے تین کلو میٹر اندر دو الگ الگ مقامات پر کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں جن میں 80 ہزار پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔

ترکی کے سرکاری امدادی ادارے کے ایک عہدیدار نے ٹیلیفون پر بتایا کہ حلب کے شہریوں کے لیے پناہ گزین کیمپ کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کا کام جلد ہی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حلب سے آنے والے شہریوں کی مدد کے لیے ترک ہلال احمر، شعبہ حادثات اور انسانی حقوق اور ریلیف کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر ادارے پناہ گزینوں کے استقبال میں پیش پیش ہوں گے۔ترکی کو توقع ہے کہ بشار الاسد اور روس کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت حلب کے 8 ہزار جنگجو اور ہزاروں عام شہری محفوظ مقامات تک منتقل ہوجائیں گے۔قبل ازیں ترکی میں محکمہ صحت کے زیراہتمام ایمرجنسی سروسز کے چیئرمین حسن ایدنلیک نے ایک بیان میں بتایا کہ حلب سے 55 زخمیوں اورمریضوں کو علاج کے لیے ترکی پہنچایا گیا ہے۔انہوں نے جیلوہ غوزو گذرگاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حلب سے لائے گئے زخمیوں میں سے ایک شخص اسپتال پہنچنے سیقبل ہی دم توڑ گیا جب کہ ایک بچے سمیت چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…