جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

’’بھارت کی درخواست ردی کے ڈھیر میں ‘‘

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

نئی دہلی (آئی این پی)برطانوی وزیراعظم ٹریزامے نے بھارت کے ویزے میں نرمی دینے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں ویزے کا اچھا نظام پہلے سے ہی موجود ہے،بھارت کیلئے ویزا کوٹا بڑھانے کی ضرورت نہیں۔برطانوی وزیراعظم انڈیا کے دورے پر نئی دہلی میں موجود ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد تجارتی معاہدے کرنا ہے۔یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد یہ ان کا کسی بھی ملک کا پہلا تجارتی دورہ ہے۔ٹریزا مے پہلے ہی یہ کہہ چکی ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین سے باہر موجود ممالک میں سے ‘روشن اور بہترین’ کو متوجہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے موصول ہونے والی دس میں سے نو ویزا درخواستوں کو پہلے سے ہی منظور کیا جاتا رہا ہے۔تاہم مسز ٹریزا مے نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ برطانیہ دولت مند انڈین تاجروں کی برطانیہ آمد کو آسان بنائے گا۔اب ہزاروں انڈین ورک ویزا کے ذریعے رجسٹرڈ ٹریولرز سکیم کا حصہ بن سکیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں برطانیہ کی سرحدوں کے اندر تیزی سے سفر کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔اس سے قبل کوبرا بیئر کے بانی لارڈ بلیموریا نے کہا تھا کہ برطانیہ میں رہائش سے متعلق پابندیوں کے باعث گذشتہ پانچ سال سے برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں انڈین طالبعلموں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی نقل وحرکت کا کسی تجارتی مذاکرات میں کلیدی حصہ ہوگا۔برطانیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جون سنہ 2010 سے گذشتہ برس تک انڈین شہریوں کو دیے جانے والے ویزوں میں 68 ہزار 238 سے 11 ہزار 864 تک کمی آئی۔کرن بلیموریا کا کہنا ہے کہ برطانیہ آنے والے طلبہ کو برطانیہ میں مجموعی طور پر آنے والے لوگوں کے اعداد و شمار سے علیحدہ کرنا اس کا حل ہے۔ اور ٹریزا مے نے عہد کیا ہے کہ تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو ایک لاکھ سالانہ تک محدود کر دیا جائے گا جو کہ جون 2015 تک تین لاکھ 36 ہزار تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…