جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

نیکی کا جواب بدی سے دینا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2016 |

نسیم حسنین)ایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا)سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا، باہر آتے ہی سانپ نےکہا کہ میں تمہیں ڈسوں گا۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو ، سانپ نے کہا کہ ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے ،اس آدمی نے کہا کہ

چلو کسی سے فیصلہ کرالیتے ہیں ، چلتے چلتے ایک گاۓ کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔یہ سن کرسانپ نے کہا کہ اب تو میں ڈسوں گا اس آدمی نے کہا کہ ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں ، سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا ، گدھے نے بھی یہی کہا کہ نیکی کا جواب بدی ہے، کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا۔سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھا کہ اس نے منت کرکے کہاکہ ایک آخری موقع اور دو ، سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا ، اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گۓ اور اسے سارا واقعہ سناکرکہا کہ فیصلہ کرو۔اس نے آدمی سے کہا کہ مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو ، سانپ کو اندر پھینکو اور باہر پھر میرے سامنے باہر نکالو ، اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا۔وہ تینوں واپس اسی جگہ گۓ ، آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا

کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ اس کے ساتھ نیکی مت کر ، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں۔خدا کی قسم وہ بندر پاکستانی عوام سے زیادہ عقل مند تھا ، پاکستانیوں کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں ان کے ساتھ نیکی کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…