منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

فتح اللہ گولن کھل کر سامنے آگئے،ترکی کو مستقبل کی خبر دیدی

datetime 20  اگست‬‮  2016 |

واشنگٹن (این این آئی)مریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے ترک عالم فتح اللہ گولن نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ ترکی کی جانب سے باضابطہ درخواست کے باوجود انھیں بے دخل نہیں کرے گا۔عرب ٹی وی سے انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ امریکہ کی دنیا میں شہرت ایک ایسے ملک کی ہے جو قانون کی حکمرانی کی پاسداری کرتا ہے۔اس لیے مجھے اعتماد ہے کہ وہ مناسب طریق کار کی پیروی کریں گے۔جب ان سے سوال کیا گیاکہ کیا امریکہ ترکی کے دباؤ میں آسکتا ہے تو انھوں نے کہاکہ یقیناً امریکی حکام کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ بھی دھوکے میں آجائیں۔اگرچہ فنی طور پر اس بات کا امکان موجود ہے لیکن میں کوئی نمایاں امکانی واقعہ رونما ہونے کا خیال نہیں کرتا۔فتح اللہ گولن نے انٹرویو میں اپنی خدمت تحریک سے وابستہ لوگوں یا اس سے مشتبہ تعلق کے الزام میں سرکاری ملازمین کے خلاف صدر رجب طیب ایردوان کی حکومت کی تطہیر کے نام پر انتقامی کارروائیوں پر تنقید کی ۔انہوں نے کہاکہ ترکی بیرونی تناظر میں مسلم دنیا میں اپنی بہت زیادہ ساکھ کھو چکا ہے۔اس کوشش اور اس کے بعد کیے جانے والے اقدامات کا کچھ فائدہ نہیں ہوا لیکن تطہیر کا عمل جاری ہے اور جب تک یہ جاری رہتا ہے وہ (ترک ارباب اقتدار) دنیا سے کسی قسم کی ہمدردی حاصل نہیں کرسکیں گے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ترکی میں جاری اس صورت حال کا کوئی حل بھی ہے تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مزید تنہائی سے ملک اپنے ہمسایوں میں بھی الگ تھلگ ہو کر رہ جائے گا۔جہاں تک صورت حال کے حل کا تعلق ہے تو میرے خیال میں جب ترکی کی تنہائی دنیا میں ایک خاص سطح پر پہنچ جائے گی اور جب نیٹو یا یورپی یونین کی جانب سے بعض اقدامات کیے جائیں گے تو شاید اس سے تصویر تبدیل ہوسکے یا انھیں جب اپنی ہی جماعت میں تقسیم کا تجربہ ہو اور جب جماعت کے اندر سے ہی کچھ لوگ جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس کے خلاف بول پڑیں تو شاید وہ جبر واستبداد سے باز آ جائیں۔اوباما انتظامیہ نے کہاہے کہ امریکی محکمہ انصاف گولن پر الزامات کی تحقیق کے لیے ٹیم ترکی بھیجے گا۔ترکی کا الزام ہے کہ گزشتہ ماہ ناکام فوجی بغاوت کے پس پردہ فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے اور اس نے واشنگٹن سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترکی نے امریکہ سے فتح اللہ گولن کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ترکی کا الزام ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے گولن کا ہاتھ ہے۔اوباما انتظامیہ کے مطابق ترکی کی جانب سے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن پر عائد کیے گئے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ انصاف جلد ہی ایک ٹیم ترکی بھیجے گا ۔ترکی کا الزام ہے کہ گزشتہ ماہ ناکام فوجی بغاوت کے پس پردہ فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے اور اس نے واشنگٹن سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…