ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

شارجہ کے ہوٹل سے 16 سالہ پاکستانی لڑکی کے ساتھ لرزہ خیز سلوک،بدبخت ماں ، ساتھی پاکستانی بزنس مین کی گرفتاری کے بعدمزید اہم انکشافات

datetime 17  اگست‬‮  2016 |

شارجہ (این این آئی)شارجہ میں ایک سولہ سالہ پاکستانی لڑکی کو جسم فروشی کے الزام میں گرفتارکرلیاگیا، متعدد مردوں کی ہوس کا نشانہ بننے والی حاملہ لڑکی کو ایک ہوٹل سے حراست میں لیاگیا،ابتدائی تفتیش میں لڑکی نے بتایا ہے کہ پیسوں کی خاطر اس کی ماں نے اسے یہاں جسم فروشی کے لیے ایک شخص کو بیچاہے ، پولیس نے بیٹی سے بے حیائی کا دھندہ کروانے والی بدبخت ماں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس کے ایک ساتھی پاکستانی بزنس مین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو بے حیائی کے دھندے کا انتظام سنبھالتا تھا اور گاہک لے کر آتا تھا۔ ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے ، جس کی اگلی سماعت یکم ستمبر کو ہو گی ۔اماراتی اخبار کے مطابق پولیس نے شارجہ کے ایک ہوٹل سے 16 سالہ لڑکی کو جسم فروشی کے الزام میں گرفتار کیا جب اس نوعمر لڑکی سے تفتیش کی گئی تو شرمناک انکشاف ہوا کہ اسے بے حیائی کے دھندے پر مجبور کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اسے جنم دینے والی ماں تھی۔لڑکی نے بتایا کہ اس کی ماں اسے پاکستان سے بیوٹی سلون میں کام کرنے کے بہانے لے کر آئی لیکن جب وہ دبئی پہنچی تو بتایا کہ اسے جسم فروشی کرنا ہو گی۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کی والدہ نے جب یہ شرمناک حکم دیا تو اس کا والد بھی موجود تھا۔ رپورٹ کے مطابق لڑکی کا کہنا تھا کہ اس نے ابتدائی طور پر انکار اور احتجاج کیا لیکن اپنی والدہ کی دھمکیوں اور زبردستی کے باعث اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گئی۔لڑکی نے بتایا کہ اس کی والدہ پہلی بار اسے ایک ہوٹل کے کمرے میں خود چھوڑ کر آئی، جہاں موجود ایک مرد نے اس کی آبروریزی کی، اور اس کے بدلے10 ہزار درہم اس کی والدہ کو ادا کئے ۔اس کے بعد یہ بات معمول بن گئی اور ہر روز اسے کسی ہوٹل کے کمرے میں پہنچایا جاتا جہاں گاہک اس کی ماں کو بھاری رقم ادا کرتے اور اس کی عصمت دری کرتے۔رپورٹ کے مطابق جب لڑکی کو شارجہ کے ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تو وہ تین ماہ کی حاملہ تھی ، اور اس کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں کہ بچے کا باپ کون ہے کیونکہ وہ اب تک بے شمار مردوں کی ہوس کا نشانہ بن چکی تھی۔ پولیس نے بیٹی سے بے حیائی کا دھندہ کروانے والی بدبخت ماں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس کے ایک ساتھی پاکستانی بزنس مین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو بے حیائی کے دھندے کا انتظام سنبھالتا تھا اور گاہک لے کر آتا تھا۔ ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے ، جس کی اگلی سماعت یکم ستمبر کو ہو گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…