بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

اب ہم پاکستان کا حصہ نہیں رہ سکتے،نریندرمودی کی شہہ پر براہمداغ بگٹی کھل کرسامنے آگئے،بلوچستان حکومت کاشدیدردعمل

datetime 16  اگست‬‮  2016 |

کوئٹہ/لندن /برن(آئی این پی)سوئٹزرلینڈ میں بیٹھے بھارت کے احسان مند بلوچوں کے نام نہاد دہشتگرد رہنما براہمداغ بگٹی نے بھارتی وزیرِ اعظم کی بلوچستان کے حوالے ہرزہ سرائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہصوبے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی بات خوش آئند اقدام ہے،بھارت عملی طو ر پر بھی بلوچوں کی حمایت کرے ، ہمیں بندوق کی نوک اور ڈرا دھمکا کر مذاکرات کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا، اب بہت دیر ہوچکی ہے اب ہم پاکستان کا حصہ نہیں رہ سکتے،دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت انوارالحق کاکڑنے براہمداغ بگٹی کے بیان کو سختی سے مستر د کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہمداغ بگٹی اور دیگر لوگوں نے کی مقبولیت ہوتی تو وہ ملک میں ہوتے، انکی یہ کھوکھلی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی، بلوچ عوام نے براہمداغ جیسے لوگوں کو مسترد کردیا ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں براہمداغ بگٹی نے بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے ایک بیان میں بلوچستان کے مسئلے کو اٹھانے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہمیں ڈرا دھمکا کر مذاکرات کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا ، اب بہت دیر ہوچکی ہے اب ہم پاکستان کا حصہ نہیں رہ سکتے۔‘برآمداغ بگٹی کا کہنا تھاکہ بھارت نے بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی بات کی ہے جوایک خوش آئند اقدام ہے۔بلوچ علیحدگی پسندوں پر بھارت سے عسکری اور مالی امداد لینے کے الزام کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے براہمداغ بگٹی نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اور بھارت کے مابین تعلقات کی نوعیت سے قطح نظر ’ہمارے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں اور یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ہمارے بھارت سے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔بلوچ رہنما نے الزام لگایا کہ گذشتہ پچاس سالوں سال سے حکومت پاکستان نے جان بوجھ کر بلوچ علاقوں کو پسماندہ رکھا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا بلوچ عوام کی پسماندگی کا ذمہ دار بھی بھارت ہے؟برہمداغ بگٹی کا کہنا تھا کہ دوسروں پر الزام لگا کر پاکستان اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر تا ہے۔دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت انوارالحق کاکڑنے براہمداغ بگٹی کے بیان کو مستر د کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہمداغ بگٹی اور دیگر لوگوں نے کی مقبولیت ہوتی تو وہ ملک میں ہوتے۔ انکی یہ کھوکھلی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی۔انکا کہنا تھاکہ بلوچستان کی عوام نے براہمداغ جیسے لوگوں کو مسترد کردیا ہے تمام لوگوں کا ملک سے باہر بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ انکی بلوچستان میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ ترجمان نے کہاکہ کشمیر کی تحریک نے بھارت کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…