بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کے اغواکا بڑتا ہوا معاملہ ہسپتالو ں میں والدین کو بچو ں کی بجا ئے کیا دیا جا تا ہے جان کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جا ئے گی

datetime 12  اگست‬‮  2016 |

پشاور (مانیٹر نگ ڈیسک ) پشاور میں لیڈی ڈاکٹر اور اسٹاف نرس بچوں کی اغوا کار نکلیں ۔ پولیس نے بچوں کے اغوا کار گروہ کو گرفتار کر لیا ۔پولیس ذرائع کے مطابق گروہ میں اسٹاف نرس، مختلف میٹرنٹی ہومز کی لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں ۔ اغوا کار گروپ کی طرف سے نومولود بچوں کو 3 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ایس ایس پی کے مطابق اغوا کار گروپ اب تک 9 بچوں کو فروخت کرچکا ہے جن میں سے ایک گیارہ سالہ بچی کا سراغ لگا لیا گیا ۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ گروہ کی سرغنہ وجیہہ نامی نرس کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جو سرکاری ہسپتال میں کام کرتی تھی جبکہ دیگر 6 ارکان بھی پولیس کی حراست میں ہیں جن میں 5 خواتین بھی شامل ہیں۔گروہ ہسپتال انتظامیہ کی مدد سےزندہ کی بجائے ، مردہ بچے بھی والدین کے حوالے کرتے اور زندہ بچے 70 ہزار سے 3 لاکھ تک فروخت کرتے رہے۔ مزید ارکان کی گرفتاری کےلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ ملزمان سے ایک بچی بھی برآمد کی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پشاور میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت دیگر سرکاری ہستپالوں اور میٹرنٹی ہومز سے بچوں کو اغٖواء کرنے والا گروہ گرفتار کر لیا ۔ گروہ کے ارکان ایک بچے کو اغواء کرنے کے بعد 3 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا ۔گروہ میں لیڈی ڈاکٹرز اور نرسوں سمیت 5 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ بچوں کو اغواء کرنے والے اس گروہ میں 4 خواتین ، ایل ایچ وی اور نرس شامل ہے ،گروہ کے ارکان لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور میٹرنٹی ہومز سے نومولود اور شیر خوار بچے اٹھاتے ہیں اور اس کام میں انہیں ہسپتال کے ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر عملے کی معاونت حاصل ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گروہ اب تک 9 بچوں کو فروخت کر چکاہے تاہم گزشتہ روز ایک بچے کو فروخت کرتے وقت گروہ کے ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے اور بچے کو بازیاب کرا کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…