منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان لنچ کرنے نہیں گیا تھا،چوہدری نثار نے دوپہر کے کھانے پر سب کو بلایا ،راج ناتھ سنگھ

datetime 5  اگست‬‮  2016 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہپاکستان لنچ کرنے نہیں گیا تھا،پاکستانی وزیر داخلہ نے دوپہر کے کھانے پر سب کو بلایا لیکن اسکے بعد وہ سب کو گاڑی میں چھوڑ کر چلے گئے جس پر میں بھی چھوڑ کر چلا آیا،مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ،بھارت کے ہر وزیراعظم نے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی ہرممکن کوشش کی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’’یہ پڑوسی ہے کہ مانتا ہی نہیں‘‘،سارک کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ دہشتگردوں میں تفریق ختم کرنا ہوگی ، ایک ملک کا دہشتگرد کسی کیلئے حریت پسند نہیں ہوسکتا،بھارت سے آنے والے صحافیوں کو پاکستان میں میڈیا کوریج کی اجازت نہیں دی گئی،پاکستان نے درست کیا یا غلط اس پر کوئی تبصر ہ نہیں کروں گا۔
جمعہ کو بھارتی میڈیاکے مطابق وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنے 2روزہ دورہ پاکستان کے حوالے سے راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آبادمیں ہونے والی سارک وزراء داخلہ کانفرنس کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ نہ صرف دہشتگردوں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے بلکہ جواسکی حمایت کرتے ہیں انکے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے ،رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے دہشتگردوں پر لگائی گئی پابندیوں کا احترام کیاجانا چاہیے۔دہشتگردی اچھی یا بری نہیں ہوتی رکن ممالک سے کہا ہے کہ دہشتگردوں میں تفریق ختم کرنا ہوگی ، ایک ملک کا دہشتگرد کسی کیلئے حریت پسند نہیں ہوسکتا۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ بھارت سے آنے والے صحافیوں کو پاکستان میں میڈیا کوریج کی اجازت نہیں دی گئی
اس پر کوئی تبصر ہ نہیں کروں گا کہ سارک کانفرنس کی میری تقریر کی کوریج کی اجازت نہ دینے پر پاکستان نے درست کیا یا غلط؟۔بھارتی وزیر داخلہ نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف ایوان کے اتحاد قابل تعریف ہے جو ملک کے دہشتگردی کے خلاف عزم کو ظاہر کرتا ہے ،ملک میں کسی بھی جماعت کا جب بھی کوئی وزیراعظم آیا ہے اس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عزم ظاہر کیا ہے ،ہمارے ہر وزیراعظم نے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی ہرممکن کوشش کی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’’یہ پڑوسی ہے کہ مانتا ہی نہیں‘‘۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دوپہر کے کھانے پر سب کو بلایا لیکن اسکے بعد وہ سب کو گاڑی میں چھوڑ کر چلے گئے جس پر میں بھی چھوڑ کر چلا گیا میں پاکستان لنچ کرنے نہیں گیا تھا ،مجھے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی میں نے وہاں کوئی احتجاج ریکارڈ کرایا ،بلیک آؤٹ کے حوالے سے وزارت خارجہ سے ماضی کے پروٹوکول کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…