ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

پاکستان لنچ کرنے نہیں گیا تھا،چوہدری نثار نے دوپہر کے کھانے پر سب کو بلایا ،راج ناتھ سنگھ

datetime 5  اگست‬‮  2016 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہپاکستان لنچ کرنے نہیں گیا تھا،پاکستانی وزیر داخلہ نے دوپہر کے کھانے پر سب کو بلایا لیکن اسکے بعد وہ سب کو گاڑی میں چھوڑ کر چلے گئے جس پر میں بھی چھوڑ کر چلا آیا،مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ،بھارت کے ہر وزیراعظم نے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی ہرممکن کوشش کی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’’یہ پڑوسی ہے کہ مانتا ہی نہیں‘‘،سارک کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ دہشتگردوں میں تفریق ختم کرنا ہوگی ، ایک ملک کا دہشتگرد کسی کیلئے حریت پسند نہیں ہوسکتا،بھارت سے آنے والے صحافیوں کو پاکستان میں میڈیا کوریج کی اجازت نہیں دی گئی،پاکستان نے درست کیا یا غلط اس پر کوئی تبصر ہ نہیں کروں گا۔
جمعہ کو بھارتی میڈیاکے مطابق وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنے 2روزہ دورہ پاکستان کے حوالے سے راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آبادمیں ہونے والی سارک وزراء داخلہ کانفرنس کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ نہ صرف دہشتگردوں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے بلکہ جواسکی حمایت کرتے ہیں انکے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے ،رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے دہشتگردوں پر لگائی گئی پابندیوں کا احترام کیاجانا چاہیے۔دہشتگردی اچھی یا بری نہیں ہوتی رکن ممالک سے کہا ہے کہ دہشتگردوں میں تفریق ختم کرنا ہوگی ، ایک ملک کا دہشتگرد کسی کیلئے حریت پسند نہیں ہوسکتا۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ بھارت سے آنے والے صحافیوں کو پاکستان میں میڈیا کوریج کی اجازت نہیں دی گئی
اس پر کوئی تبصر ہ نہیں کروں گا کہ سارک کانفرنس کی میری تقریر کی کوریج کی اجازت نہ دینے پر پاکستان نے درست کیا یا غلط؟۔بھارتی وزیر داخلہ نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف ایوان کے اتحاد قابل تعریف ہے جو ملک کے دہشتگردی کے خلاف عزم کو ظاہر کرتا ہے ،ملک میں کسی بھی جماعت کا جب بھی کوئی وزیراعظم آیا ہے اس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عزم ظاہر کیا ہے ،ہمارے ہر وزیراعظم نے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے اپنی ہرممکن کوشش کی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’’یہ پڑوسی ہے کہ مانتا ہی نہیں‘‘۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دوپہر کے کھانے پر سب کو بلایا لیکن اسکے بعد وہ سب کو گاڑی میں چھوڑ کر چلے گئے جس پر میں بھی چھوڑ کر چلا گیا میں پاکستان لنچ کرنے نہیں گیا تھا ،مجھے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی میں نے وہاں کوئی احتجاج ریکارڈ کرایا ،بلیک آؤٹ کے حوالے سے وزارت خارجہ سے ماضی کے پروٹوکول کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…