پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

سیکولر بھارت میں سے ایک نئی ’’ہندوریاست‘‘ کا قیام جلد متوقع،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 29  جولائی  2016 |

نئی دہلی (این این آئی)سیکولر بھارت میں سے ایک نئی ’’ہندوریاست‘‘ کا قیام جلد متوقع،خطرے کی گھنٹی بج گئی،بھارت میں دلت برادری نے کہاہے کہ ہندوؤں کے گناہ کی وجہ سے ہی دلت سماج مردہ گائے یا مرے جانوروں کا گوشت کھانے پر مجبور ہے۔بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات بھارتی ریاست گجرات کے سریندر میں ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر مردہ گائیں پھینک کر غصہ ظاہر کرنے والے دلت کارکن نٹو بھائی پرمار نے بات چیت میں کہی،نوسرجن ٹرسٹ سے منسلک نٹو بھائی پرمار وہ دلت کارکن ہیں جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کلکٹر کے دفتر کے باہر مردہ گائیں پھینکنے کا فیصلہ کیا تھا۔جنوبی گجرات کے موٹے سمادھیالا گاؤں میں کچھ دن پہلے چمڑے کے ایک کارخانے میں مری ہوئی گائے کی چمڑی اتارنے پر پر چار دلت نوجوانوں کی سرعام پٹائی کی گئی۔تبھی سے دلت کمیونٹی میں غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔اس کی مخالفت میں 18 جولائی کو سریندر ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر مری ہوئی گائیں پھینک کر دلت کمیونٹی نے اپنے غصے کا ایک نئے طریقے سے اظہار کیا۔یہ مخالفت کا پرامن مگر ساتھ ہی مشتعل طریقہ تھا جسے بھارت کے دلت تحریک میں ایک نیا اعتماد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔نٹو بھائی پرمار نے کہا کہ مری گائے کا گوشت کھانے کی روایت ہم نے شروع نہیں کی تھی۔ صدیوں سے ہمارے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہوتا رہا ہے. ہمیں گاؤں کے باہر رکھا جاتا تھا. جو اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں، انھی کے گناہ کی وجہ سے ہمارے باپ دادا اور ہم آج بھی مری ہوئی گائے یا مردہ جانوروں کے گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہندو قوم کی بات کرنے والے، دلتوں کو صرف تعداد بڑھانے کے لیے ہندو کہتے ہیں، پر دراصل انھیں ہندو نہیں مانتے۔پرمار نے کہا کہ ہندو قوم کی ذات کے نظام میں دلت سب سے نیچے کی نشان پر ہیں۔پرمار نے کہا کہ امیتابھ بچن کو کچھ ہوتا ہے تو وزیراعظم نریندر مودی فوری طور پر ٹویٹ کرتے ہیں، پر اتنی بڑی واردات ہوگئی اور انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ خاموش ہیں۔انہوں نے کہاکہ ریلی کی اجازت لیتے وقت ہم نے انتظامیہ سے دس گاڑیوں کو جلوس میں رکھنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن انھیں یہ نہیں بتایا کہ ان گاڑیوں میں مری ہوئی گائیں ہوں گی۔ ہم نے بہت سے دیہات سے مری گائیں منگوا کر انھیں کمپاؤنڈ کے سامنے پھینک دیا۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں سال سے مری گائے کی کھال نکال کر چمڑے بنانے کا کام اب وہ نہیں کریں گے اور یہ کام اب شیو فوجیوں کو کرنے کو کہا جائے۔انہوں نے کہاکہ آج بھی گجرات میں دلتوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ہمیں مندروں میں داخلہ نہیں ملتا، ہمارے بچوں کو الگ سے بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے، عوامی مقامات پر ہم نہیں جا سکتے۔ کئی مقامات پر اس کے خلاف فریاد کی، لیکن ایسا کرنے پر بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…