ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

امریکہ کا اسرائیل بارے ایسا بیان، مسلمانوں خوش ، دنیا پریشان

datetime 28  جولائی  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ نے اسرائیلی حکومت کے مشرقی یروشلم میں سینکڑوں نئے مکانات تعمیر کرنے کے حالیہ منصوبے کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ س متنازعہ علاقے میں نئی یہودی آبادی کاری سے امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔غیرملکی خبرررساں ادارے کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان جان کِربی نے اس پیش رفت پر واشنگٹن کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم ایسی خبروں پر تشویش رکھتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت نے مشرقی یروشلم میں نئے مکانات کی تعمیر کے حوالے سے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔کِربی نے کہا کہ پیر کے دن بھی گیلو کی یہودی بستی میں سات سو ستر رہائشی یونٹوں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا اور اسرائیلی حکومت کے یہ اقدامات قیام عمل کی خاطر تنازعے کے دو ریاستی حل کے منافی ہیں۔جان کربی نے مزید کہا کہ اسرائیل کی طرف سے اس طرح یہودی آباد کاری ’اشتعال انگیز اور غیر تعمیری‘ ہے۔ امریکا کے علاوہ فلسطینی رہنماؤں اور اقوام متحدہ نے بھی گیلو میں نئے مکانات کی تعمیر کے اس منصوبے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اسرائیلی حکومت کے یہودی آبادکاری کے منصوبوں پر نظر رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ’عیر عمیم‘ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے نئے مکانات کی تعمیر کا یہ منصوبہ دراصل تین برس قبل منظور کیے گئے اس بڑے پلان کا حصہ ہے، جس کے تحت بارہ سو نئے رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم اور مغربی اردن کے علاقے میں یہودی آبادکاری کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ایسے منصوبہ جات کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ فلسطینی ان مقبوضہ علاقوں کو مستقبل کی اپنی آزاد ریاست کا حصہ قرار دیتے ہیں۔امریکا، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ کے چار فریقی سفارت کار گروپ نے بھی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے متنازعہ علاقوں میں نئے مکانات کی تعمیر سے دو ریاستی حل کے امکان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اسرائیل نے سن 1967 میں مغربی اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین قیام امن کے سلسلے میں یروشلم کا معاملہ انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔ سن دو ہزار چودہ سے اس معاملے کے باعث امن مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…