اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں تارکین وطن کے سماجی انضمام ، پناہ کے متلاشی افراد کو روزگار کی فراہمی کا قانون منظور

datetime 9  جولائی  2016 |

برلن(این این آئی)وفاقی جرمن پارلیمنٹ نے ملک میں آنے والے تارکین وطن کے سماجی انضمام اور پناہ کے متلاشی افراد کو روزگار کی فراہمی سے متعلق نئے قوانین کی منظوری دے دی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا بنڈس ٹاگ کے منظور کردہ مہاجرین کے سماجی انضمام سے متعلق نئے قوانین کے مطابق جرمن معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش نہ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو ریاست کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات روک دی جائیں گی۔وفاقی چانسلر میرکل نے چار ماہ قبل ایسے قوانین بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئے سماجی قوانین تاریخی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ میرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی کو مہاجرین کی جانب سے دو طرح کے چیلنج درپیش ہیں، جن میں سے پہلا ان کی جرمنی آمد کو محدود کرنا اور دوسرا ملک میں رہائش پذیر مہاجرین کو مقامی معاشرے میں ضم کرنا ہے۔جرمنی میں موجود مہاجرین کے بارے میں ان نئے قوانین کو ’قانون برائے سماجی انضمام‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں مہاجرین کے لیے سماجی انضمام کے کورسز سے لے کر ان کی تعلیم، فنی تربیت، ملازمت اور ان کے جرمنی میں رہائش کے حقوق تک جیسے سبھی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ان قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے والے مہاجرین کو اس عمل کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔ تعاون نہ کرنے والے مہاجرین کو نہ صرف سماجی سہولیات سے محروم کر دیا جائے گا بلکہ انہیں جاری کردہ عارضی رہائش نامے بھی منسوخ کیے جا سکیں گے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے برلن حکومت کے ان نئے قوانین پر شدید تنقید کی ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی میں سماجی انضمام کی نگران خاتون کمشنر آئیدین اْوزوس نے بھی ان قوانین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوانین انہی لوگوں کو معاشرتی طور پر ’الگ تھلگ‘ کر دینے کا سبب بن جائیں گے، جنہیں معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کے تحت یہ قانون سازی کی گئی ہے۔اْوزوس کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ یہ قوانین جرمنی آنے والے مہاجرین کا سماجی انضمام یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں تاہم ان میں ایک اہم بات کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ریاست کی فراہم کردہ ’سہولیات کا حق دار‘ کون ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…