جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیشن نے پیرس حملوں کے تناظر میں انٹیلیجنس کے شعبے میں بڑے پیمانے پر ردّ و بدل کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کو ملا کر ایک ہی بڑی ایجنسی بنا دی جانی چاہیے۔پیرس میں نومبر 2015ء کے حملوں کے بعد قائم کردہ اس پارلیمانی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی سفارشات گزشتہ چھ مہینوں میں دو سو گھنٹوں کے انٹرویوز اور بیانات کا تجزیہ کرتے ہوئے مرتب کی ہیں۔ کمیشن نے جی آئی جی این،آر اے آئی ڈی(ریڈ) اور بی آر آئی(بری) کی جگہ ایک ہی ’قومی انسدادِ دہشت گردی ایجنسی‘ کے قیام کی تجویز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ فرانس نے اس طرح کے حملوں کے لیے کوئی پیشگی تیاری نہیں کر رکھی تھی۔کمیشن کے صدر شارش فینیک نے کہا کہ اْن کے کمیشن کا کام اب تک کی دہشت گردانہ کارروائیوں اور اْن سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا گہری نظر سے جائزہ لینا تھا۔ کمیشن کے مطابق دہشت گردی کے بین الاقوامی خطرے کے پیشِ نظر فرانس کو آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے انٹیلیجنس کے شعبے میں زیادہ بھرپور تیاریاں کرنی چاہییں۔کمیشن کے مطابق ملک کے ہوائی اڈوں پر زیادہ سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ ساتھ عدالتوں اور جیلوں کے نظام بھی بہتر بنائے جانے چاہییں کیونکہ ماضی میں بہت سے لوگ جیلوں ہی میں انتہا پسندی کی جانب راغب ہوئے۔
کمیشن نے موجودہ نظام میں مجموعی طور پر اْنتالیس مختلف تبدیلیوں کی تجاویز پیش کی ہیں، جنہیں منظوری کے لیے ابھی پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ کمیشن کے مطابق ملک میں گزشتہ آٹھ مہینوں سے نافذ چلی آرہی ہنگامی حالت کے نتیجے میں محض محدود پیمانے پر ہی کامیابی حاصل ہو سکی ہے۔کمیشن نے اْس ’آپریشن سینٹینل‘ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جس کے تحت ہزاروں فوجیوں کو اسکولوں، یہودیوں کے عبادت خانوں، شاپنگ سینٹرز اور دیگر حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ یورو کپ جیسے بڑے عوامی اجتماعات کے موقع پر فوجیوں کی بڑے پیمانے پر موجودگی نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے تاہم کمیشن کے خیال میں اس آپریشن میں زیادہ توجہ اسٹریٹیجک اہمیت کے مقامات کی حفاظت پر مرکوز کی جانی چاہیے۔بیلجیئم بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے چنانچہ کمیشن نے فرانس کو ہمسایہ بیلجیئم اور خصوصاً یورپی ایجنسی یورو پول کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے براہِ راست متاثر ہونے والے ملکوں مثلاً عراق اور شام کے ساتھ بھی اشتراکِ عمل بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔کمیشن کے مطابق فرانس کو شام کے ساتھ ملنے والی ترک سرحد کو محفوظ بنانے میں بھی تعاون فراہم کرنا چاہیے اور یونان میں یورو پول کے زیادہ ارکان کی تعیناتی کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ عرب دنیا سے پناہ کی تلاش میں وہاں پہنچنے والے مہاجرین کو زیادہ گہری نظر سے جانچا جا سکے۔
سب چھوٹی چھوٹی ایجنسیوں کو ملا کر ایک ہی ایجنسی بنا دی جائے، بڑا فیصلہ ہو گیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کے لیے واحد آپشن
-
وفاقی حکومت کا ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈائون کا فیصلہ
-
پنجاب حکومت نے سکولز دوبارہ کھولنے سے پہلے نئی ہدایات جاری کردیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کے بارےوزیراعظم کا اہم اعلان
-
پاکستان میں سستی الیکٹرک گاڑیوں (EV) کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری، CSMنے JMEV EV3 کی قیمتوں کا اعلا...
-
روس کا یکم اپریل سے دنیا کو پیٹرول کی فراہمی بند کرنے کا اعلان
-
صدر ٹرمپ کے سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا اور سخت ریمارکس،ویڈیو بھی سامنے آ گئی
-
آئی پی ایل کو بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی کو بورڈ نے این او سی جاری نہیں کیا
-
سابق کپتان پر الزامات، احمد شہزاد مشکل میں پڑ گئے
-
ایران کے میزائل حملے، 500امریکی فوجی ہلاک ، ایک ایف- 16طیارہ تباہ ہوگیا،ایران کا دعوی
-
مسافروں کیلیے خوشخبری! سعودی عرب سے پاکستان کیلیے پروازوں کا اعلان
-
آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کاامکان
-
کیوبا اگلا ہدف ہے ،ٹرمپ کے بیان سے عالمی سیاست میں ہلچل، کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
-
حملوں میں اب تک کتنےپاکستانی شہید اور زخمی ہوئے؟ متحدہ عرب امارات نے اعدادوشمار جا ری کر دیے



















































