منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جھوٹ بولنے پر امریکی ٹی وی چینل کا میزبان چھ ماہ کیلئے معطل

datetime 11  فروری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔۔امریکی نیوز چینل این بی سی نے اپنے میزبان برائن ولیمز کو عراق میں فائرنگ کی زد میں آنے کی جھوٹی کہانی سنانے کے اعتراف کے بعد معطل کر دیا ہے۔این بی سی کا کہنا ہے کہ برائن ولیمز اس ’ناقابل معافی‘ عمل کے لیے چھ ماہ تک معطل رہیں گے اور اس دوران انھیں تنخواہ نہیں ملے گی۔
اس سے قبل برائن ولیمز نے عراق میں خود پر ہونے والی فائرنگ کے غلط دعوے پر اپنے کام سے عارضی طور پر علیحدگی کا اعلان کیا تھا جبکہ اس سے بھی قبل گذشتہ ہفتے بدھ کو انھوں نے براہِ راست پروگرام کے دوران اس پر معافی طلب کی تھی۔واضح رہے کہ ولیمز نے دعویٰ کیا تھا کہ 2003 میں ان کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد اسے اتارنا پڑا تھا۔تاہم امریکہ کے اعلیٰ حکام نے اس دعوے کو غلط قرار دیا تھا۔ایک فوجی نے لکھا: ’معاف کرنا، لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا کہ تم اس ہیلی کاپٹر میں موجود تھے۔‘
برائن ولیمز اس واقعے کو اکثر دہراتے رہتے تھے لیکن اب وہ ’دھندلی یادداشت‘ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
’میں نے 12 سال پرانا واقعہ سناتے ہوئے غلطی کی۔ میں اس پر معذرت کرتا ہوں‘
انھوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا: ’میں نے 12 سال پرانا واقعہ سناتے ہوئے غلطی کی۔ میں اس بارے میں معذرت کرتا ہوں۔ میں نے کہا تھا کہ میں اس جہاز میں سفر کر رہا تھا جس پر راکٹ لانچر سے حملہ کیا گیا۔ درحقیقت میں اس سے پچھلے جہاز میں سوار تھا۔‘این بی سی نیوز پریزیڈنٹ ڈیبورا ٹرنیس نے کہا کہ ولیمز نے عراق جنگ کے واقعات کی ’غلط ترجمانی‘ کی ہے۔انھوں نے مزید کہا: ’یہ واضح ہو گیا ہے کہ برائن نے دوسرے مواقع اور جگہوں پر اس کہانی کو کہتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ یہ غلط ہے اور برائن جیسے عہدے کے لیے قطعی نامناسب ہے۔‘منگل کو این بی سی کے یونیورسل چیف ایگزیکٹیو سٹیون برک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ولیمز نے این بی سی پر لاکھوں امریکیوں کے اعتماد کو پہنچائی ہے۔’ان کی حرکتیں ناقابل معافی ہیں اور ان کی معطلی سخت لیکن مناسب ہے۔‘این بی سی اس معاملے کی از سر نو جانچ کر رہی ہے کہ کیا ہوا تھا۔واشنگٹن میں ہماری نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بات پہلے سے ہی گشت کر رہی تھی کہ اینکر کے اعتبار کو اس قدر دھچکہ لگنے کے بعد کیا وہ پھر کبھی اپنے پروگرام پر لوٹ سکیں گے۔
اب سنہ 2005 میں ان کی کیٹرینا طوفان کی پیش کش پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ ایک ہیلتھ آفیسر نے ان کے دعوے پر سوال اٹھایا کہ جب طوفان کے بعد وہ اس علاقے میں گئے تھے تو انھیں اسہال کی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…