واشنگٹن (این این آئی)امریکا کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے چیف جان برینن نے کہا ہے کہ نائن الیون کے واقعات سے سعودی عرب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تناؤ اور کشیدگی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ دونوں دوست ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات خوش گوار سطح پر قائم ہیں۔جان برینن نے ان خیالات کا اظہار عرب ٹی وی کو دئے گئے ایک انٹرویومیں کیا، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ امریکا سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہترین تعلقات اور دو طرفہ تعاون قائم ہے۔سی آئی اے چیف نے کہا کہ سعوی عرب اور امریکا کے درمیان بہترین تعلقات قائم رہے ہیں۔ ہم نے ریاض کے ساتھ مل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طویل سفر طے کیا ہے۔ میں خود پانچ سال تک سعودی عرب میں رہا اور وزیر داخلہ ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کے ساتھ کام کیا۔ گذشتہ پندرہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے کلیدی کردار کا عرصہ ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے مضبوط اور حقیقی اتحادی اب بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2002ء میں نائن الیون کے واقعات کے حوالے سے تیار کردہ ایک رپورٹ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت بھی اس میں ملوث رہی ہے پر نظر ثانی کی گئی اور تفتیش کاروں نے رپورٹ کی تیاری میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کیا ہے۔ ہم نے ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں بتایاہے کہ سعودی عرب کا نائن الیون کے حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔ سعودی عرب بہ طور ریاست، کوئی ادارہ یا کوئی سرکاری عہدیدار ان حملوں میں بالواسطہ یا براہ راست ہر گز ملوث نہیں ہیں۔ اٹھائیس صحفات پر محیط یہ رپورٹ جلد ہی سامنے لائی جائے گی۔ ہم اس رپورٹ کے منظر عام پر لانے کے حامی ہیں کیونکہ اس میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ سعودی عرب کا نائن الیون کے واقعات سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔عرب ممالک میں ایران کی کھلی مداخلت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں سی آئی اے چیف کا کہنا تھا کہ انہیں عراق، شام اور دوسرے عرب ملکوں میں ایران کی فوجی مداخلت پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عرب خطے میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑائی چھیڑنے کے لیے اپنے حامیوں کی مدد کر رہا ہے۔ ہم ایرانی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے تہران سے عرب ممالک میں دخل اندازی بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان دو طرفہ روابط کے بارے میں جون برینن کا کہنا تھاکہ واشنگٹن کے تہران کے ساتھ کسی قسم کے کوئی روابط قائم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی دہشت گرد تنظیموں کی معاونت بالخصوص شام اور عراق میں شدت پسندوں کی معاونت پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے
سعودی عرب کانائن الیون حملوں سے کیا تعلق تھا؟بالاخر سی آئی اے نے بڑا اعلان کرہی دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کے لیے واحد آپشن
-
مشہور بھارتی اداکارہ ٹریفک کے المناک حادثے میں چل بسیں
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
ایران نے اسرائیل پرداغے جانے والے میزائلوں پر تھینک یو پیپلز آف پاکستان لکھ دیا
-
عوام کو سستے پیٹرول کی فراہمی ! حکومت کا 24 ہزار فونز خریدنے کا اعلان
-
محلے دار نے بھتیجے کے گھر آئی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
پاکستان کرکٹ بورڈ نے نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
-
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
حمزہ علی عباسی کی بہن نے لاکھوں ڈالرز اور درہم کیسے بیرون ملک منتقل کئے؟ الزامات کی تفصیلات
-
ریشم نے بہت سے گھر اور زندگیاں تباہ کی ہیں’ دیدار کا الزام
-
دوستی نہ کرنے پر فٹ بالر نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا
-
خلیجی ممالک نے عراق سے اہم مطالبہ کر دیا
-
رجب بٹ کا ذوالقرنین سکندر اور کنول آفتاب کو دوٹوک جواب، تنازع شدت اختیار کر گیا
-
آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کیلئے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کررہے ہیں: فنانشل ٹائ...



















































