جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

اوبامہ نے بھارت کو بڑی خوشخبر ی سنا دی

datetime 5  جون‬‮  2016 |

نیویارک (اے پی پی) امریکا کے معروف اخبار نیویارک ٹائم نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ جب تک بھارت جوہری مواد کی سویلین ٹریڈ کا رخ فوجی استعمال سے تبدیل نہیں کرتے اس وقت تک نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی رکنیت کیلئے ’’خصوصی استثنیٰ‘‘ کی کوششوں سے دور رہا جائے۔ یہ بات نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریئے میں کہی ہے۔ اخبار نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ اگر بھارت جوہری ریاست کے طور پر اپنی پہچان چاہتا ہے تو اس صورت میں اسے نیوکلیئر سپلائر گروپ کی شرائط اور ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا جس میں پاکستان اورچین کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی اور جوہری بموں کیلئے ایندھن کی تیاری کو روکنے کیلئے مذاکرات شروع کرنا شامل ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ صدر اوباما کے دور میں بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات کو فروغ ملا ہے۔ رواں ہفتے صدر اوباما بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے ہیں اس اہم موقع سے استفادہ کرتے ہوئے صدر اوباما کو بھارت پر دباؤ بڑھانا چاہئے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کیلئے وہ تمام قواعد و ضوابط تسلیم کرے جو دیگر جوہری ریاستیں تسلیم کر رہی ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک خطرناک سودے بازی پر منحصر ہے، سالوں تک امریکا نے بھارت کے جوہری پروگرام کے حوالے سے نرمی کا رویہ اختیار کیا ہے جس کی بنیادی وجہ بھارت کے ساتھ تجارت اور چینی اثرورسوخ کو روکنے کیلئے بھارت کی حمایت ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ 2008ء میں صدر بش نے بھارت کے ساتھ سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں بھارت کو جوہری مواد کی تجارت کی اجازت مل گئی اب اوباما انتظامیہ 48 رکنی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی نمائندگی کیلئے پرزور حمایت کر رہی ہے۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں رکنیت حاصل کرنے والے تمام ممالک نے اس کے تمام تقاضے پورے کئے ہیں تاہم بھارت نے ان تقاضوں کو پورا کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ بھارت تخفیف اسلحہ کیلئے مذاکرات کے قانونی تقاضے پورے نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت جوہری مواد کی تیاری اور جوہری دھماکوں کے حوالے سے بھی متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں اوباما انتظامیہ کو نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی رکنیت کیلئے ’’خصوصی استثنیٰ‘‘ کی کوششوں سے دور رہنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…