جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

اوبامہ نے بھارت کو بڑی خوشخبر ی سنا دی

datetime 5  جون‬‮  2016 |

نیویارک (اے پی پی) امریکا کے معروف اخبار نیویارک ٹائم نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ جب تک بھارت جوہری مواد کی سویلین ٹریڈ کا رخ فوجی استعمال سے تبدیل نہیں کرتے اس وقت تک نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی رکنیت کیلئے ’’خصوصی استثنیٰ‘‘ کی کوششوں سے دور رہا جائے۔ یہ بات نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریئے میں کہی ہے۔ اخبار نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ اگر بھارت جوہری ریاست کے طور پر اپنی پہچان چاہتا ہے تو اس صورت میں اسے نیوکلیئر سپلائر گروپ کی شرائط اور ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا جس میں پاکستان اورچین کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی اور جوہری بموں کیلئے ایندھن کی تیاری کو روکنے کیلئے مذاکرات شروع کرنا شامل ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ صدر اوباما کے دور میں بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات کو فروغ ملا ہے۔ رواں ہفتے صدر اوباما بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے ہیں اس اہم موقع سے استفادہ کرتے ہوئے صدر اوباما کو بھارت پر دباؤ بڑھانا چاہئے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کیلئے وہ تمام قواعد و ضوابط تسلیم کرے جو دیگر جوہری ریاستیں تسلیم کر رہی ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات ایک خطرناک سودے بازی پر منحصر ہے، سالوں تک امریکا نے بھارت کے جوہری پروگرام کے حوالے سے نرمی کا رویہ اختیار کیا ہے جس کی بنیادی وجہ بھارت کے ساتھ تجارت اور چینی اثرورسوخ کو روکنے کیلئے بھارت کی حمایت ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ 2008ء میں صدر بش نے بھارت کے ساتھ سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں بھارت کو جوہری مواد کی تجارت کی اجازت مل گئی اب اوباما انتظامیہ 48 رکنی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی نمائندگی کیلئے پرزور حمایت کر رہی ہے۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں رکنیت حاصل کرنے والے تمام ممالک نے اس کے تمام تقاضے پورے کئے ہیں تاہم بھارت نے ان تقاضوں کو پورا کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ بھارت تخفیف اسلحہ کیلئے مذاکرات کے قانونی تقاضے پورے نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت جوہری مواد کی تیاری اور جوہری دھماکوں کے حوالے سے بھی متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں اوباما انتظامیہ کو نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی رکنیت کیلئے ’’خصوصی استثنیٰ‘‘ کی کوششوں سے دور رہنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…