منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

میڈیکل سائنس اتنی بھی اچھی چیز نہیں،اٹھارہ لاکھ سعودیوں کا گھر نہیں بسنے دیا

datetime 31  جنوری‬‮  2015 |

ریاض……….سعودی عرب میں جینیاتی عدم مطابقت کے باعث اٹھارہ لاکھ شادیاں نہ ہو سکیں۔ سعودی وزارت صحت نے شہریوں کو بعد از شادی ممکنہ جسمانی پیچیدگیوں اور بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ان کی اولادوں کے کسی بڑے عارضے سے تحفظ دینے کے لیے دلہا اور دلہن کے شادی سے قبل طبی معائنوں کا نظام وضع کر رکھا ہے۔

اس حفظ ماتقدم کے اصول کے تحت کیے گئے حکومتی بندو بست کے بدولت اٹھارہ لاکھ امکانی جوڑوں نے باہم شادی کا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے اپنے لیے کوئی نیا بر تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم ان فیصلوں کے نتیجے میں لاکھوں ہونے والے بچوں کو مہلک امراض سے بچا لیا گیا ہے۔

سعودی وزارت صحت کی گیارہ برسوں پر مشتمل ایک رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر تیس لاکھ لڑکوں اور لڑکیوں نے اپنی شادی سے قبل منگیتر کے ساتھ جینیاتی مطابقت کا پتہ چلانے کے لیے رجوع کیا تاکہ جینیاتی عوارض کی تصدیق کے باعث وہ شادی سے پہلے ہی طبی مشورہ حاصل کر سکیں اور بعد ازاں اپنے یا اپنی منگیتر سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کریں۔2004ء سے شروع کیے گئے منصوبے کا ایک مقصد وزارت صحت کے وسائل کا بہتر استعمال کرنا بھی ہے تاکہ بعد ازاں پیدا ہونے والے پیچیدہ امراض اور مسائل پر وسائل ضائع ہونے سے بچانے کی پہلے سے پیش بندی کی جائے۔

وزارت صحت کے اس شعبے کے تحت ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی کے علاوہ ایچ آئی وی کے جرثوموں کے ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے طبی رپورٹ تیار کر کے امکانی جوڑوں کو دیتا ہے۔ تاکہ وہ مستقبل میں اپنے بچوں میں خوفناک بیماریوں کے منتقل ہونے بے خوف ہو جائیں۔ وزارت صحت میں اس شعبے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد سعید نے بتایا اس شعبے کی مدد سے نئے سعودی خاندانوں کی آئندہ برسوں میں صحت و تندرستی یقینی بنانے کے علاوہ انہیں اور حکومت کو اضافی مالی بوجھ سے بچانا مقصود ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تھیلسمیا کے ایک مریض پر سالانہ ایک لاکھ سعودی ریال خرچ ہوتے ہیں۔ جبکہ ایچ آئی وی کے جرثوموں کے حوالے سے تشخیص کیے جانے والے ایک مریض پر سالانہ ایک لاکھ سعودی ریال سے پانچ لاکھ سعودی ریال خرچ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سعید نے بتایا اس شعبے سے ملک بھر میں سالانہ تین لاکھ جوڑوں نے ٹیسٹ کرائے جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مستقبل کے شادی شدہ جوڑوں کو شادی سے پہلے سہولت دینے کے لیے وزارت صحت نے پورے ملک میں مجموعی طور پر 130 مراکز قائم کیے ہیں۔ اس شعبے کے تحت 91 جدید ترین لیبارٹریز بھی قائم ہیں جو لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ واضح رہے وزارت صحت کے 1120 اہلکار اس شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سعید نے کہا ان کوشش ہے کہ ایسے 90 فیصد شہریوں کو یہ سہولت بہم پہنچائیں لیکن ابھی اس ادارے سے رجوع کرنے والے ممکنہ جوڑوں کی صرف ساٹھ فیصد تعداد استفادہ کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…