جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

آسٹریا میں اب روزانہ 80 پناہ گزین ہی آ سکیں گے،قانون نافذ

datetime 19  فروری‬‮  2016 |

ویانا(نیوز ڈیسک) یورپی ملک آسٹریا میں روزانہ ایک مقررہ تعداد میں پناہ گزینوں یا تارکینِ وطن کو داخلے کی اجازت دینے کا قانون نافذ کر دیا گیا ۔اس قانون کے تحت ملک کی جنوبی سرحد پر ایک دن میں پناہ کی صرف 80 درخواستیں ہی وصول کی جائیں گی اور یہ تعداد پوری ہونے پر سرحد بند کر دی جائے گی۔تاہم مہاجرت کے بارے میں یورپی کمیشن کے سربراہ نے اس اقدام کو یورپی یونین کے قانون سے ’بالکل متصادم‘ قرار دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک کے رہنماو ¿ں نے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے آئندہ ماہ کے اوائل میںترک حکام کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔برسلز میں یورپی یونین کی ایک اجلاس میں بات چیت کے بعد یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ ’یورپی یونین اور ترکی کا علمی منصوبہ ہماری ترجیح ہے۔یورپی یونین نے ترکی کو اس کی اپنی سر زمین پر پناہ گزینوں کے رہائش کا انتظام کرنے کے لیے تین ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم مہیا کرنے کا عہد کیا ہے۔ترکی میں اس وقت تقریباً 30 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں اور ان میں سے بیشتر شام میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آئے ہیں۔ان پناہ گزینوں میں سے اکثریت آسٹریا کے راستے جرمنی گئی جبکہ آسٹریا میں گذشتہ برس 90 ہزار افراد نے پناہ کی درخواست کی اور یہ تعداد ملک کی کل آبادی کے ایک فیصد کے برابر ہے۔آسٹریا کی حکومت کا کہنا تھاکہ پناہ گزینوں کی تعداد مقرر کرنا ضروری تھا کیونکہ یورپی یونین کا وہ منصوبہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا جس کے تحت پناہ گزینوں کو ترکی میں روکا جا سکے۔گذشتہ برس جرمنی میں چار لاکھ 76 ہزار افراد نے پناہ کی درخواست کی جبکہ آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں سویڈن میں دی گئیں جہاں یہ تعداد ایک لاکھ 63 ہزار رہی۔سویڈن نے بھی اپنی سرحدوں پر آنے والے پناہ گزینوں کو داخلے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور سویڈش حکام نے کہا کہ وہ جگہ اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے کچھ پناہ گزینوں کو ایک بحری جہاز پر رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔پناہ گزینوں کے معاملے کے لیے یورپی یونین کے کمشنر دمیتری اوراموپولس نے آسٹریا کی وزارتِ داخلہ کو تحریر کیے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ روزانہ محدود تعداد میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا منصوبہ آسٹریا کی اس ذمہ داری سے مطابقت نہیں رکھتا جو یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے اس پر عائد ہوتی ہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…