جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

جنوبی امریکہ سے ڈائینوسار کا فوسل دریافت

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک ) برطانیہ کے سائنسدانوں نے جنوبی امریکہ سے کتے کے سائز کے سینگوں والے ڈائینوسار کا فوسلز دریافت کر لیا ہے۔ برطانیہ کے ڈاکٹر نیک لونگریچ نے جنوبی امریکہ سے ملنے والی فوسلز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈائینوسار کی ارتقا یافتہ قسم ہے۔ ماہرین کی تھیوری کے مطابق کریٹیشیئس پیریڈ میں(66 سے 100 ملین سال پہلے) جنوبی امریکہ کا یہ خطہ سمندر کی وجہ سے دو حصوں میں بٹ گیا جو بحیرہ اوقیانوس سے مکسیکو کے خلیج تک تھا۔ ڈائینو سار جو مغربی براعظم میں رہتے تھے انہیں لارامیڈیا کہا جاتا تھا جو بلکل ایشیا میں بسنے والے ڈئینوسار جیسے تھے۔ ڈائینوسار کے کچھ فوسلز مشرقی لوسٹ براعظم سے بھی ملے ہیں چونکہ یہ خطہ بہت زیادہ ہریالی اور درختوں پر مشتمل ہے اس لیے فوسلز ڈھونڈنے میں مشکلات ہوئی ہیں۔ جنوبی امریکہ سے ملنے والے فوسل کے بارے میں ماہرین کی تھیوری کے مطابق ڈائینوسار سینگوں والے ڈائینوسار کی قسم سے تعلق رکھتا ہے جو درختوں کے پتے اور گھاس پھوس کھاتے تھے۔ ماہرین کے مطابق ملنے والا فوسل کیراٹوپنیئن ڈائینوسار کی نسل سے تعلق رکھنے والا پہلا فوسل ہے۔ کیراٹوپیئن ڈائینوسار کی وہ قسم ہے جن کے سر پر سینگ اور جو پودے کھاتے تھے۔ کریٹیشیئس ریسرچ کے جریدے میں شائع ہونے والی سٹڈی کے مطابق یہ ڈائینوسار کریٹیشیئس پیریڈ میں پائے جاتے تھے ان کا سائز کتے جتنا اور سر پر سینگ موجود تھے۔ سائینسدان ابھی تک اس کی درست قسم کی شناخت نہیں کر پائے تاہم فوسلز کے جبڑے میں ایک حیران کن ٹویسٹ موجود ہے جس کی وجہ سے اس کے دانتوں کا گھیرا نیچے کو اور باہر کو نکلا ہوا ہے۔جبڑا کیراٹوپیسیا نسل سے تعلق رکھنے والے باقی ڈائینوساروں سے قدرے باریک ہے جو ارتقا کا ایک ثبوت ہے۔ ڈاکٹر لانگریچ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا سے ملنے والے جانوروں اور پودوں کے فوسلز باقی دنیا سے ملنے والے فوسلز سے مختلف ہیں جس کا مطلب ہے کہ شمالی امریکہ میں پائے جانے والے جانور اور پودوں کی نسلیں کریٹیشیئس پیریڈ سے تعلق رکھتی تھی جس میں ارتقا کا بھرپور عمل دخل تھا۔ اس تھیوری کے مطابق یہ جنوبی امریکہ کی زمین پانی کی وجہ سے دو حصوں میں بٹ گئی جس سے جانور پانی کی موجودگی کی وجہ سے ایک سے دوسرے خطے میں آ جا نہیں سکتے تھے۔ اس بندش نے اپلیچیا کے جانوروں کو قدرے مختلف اور حیران کن ڈائینوسار میں تبدیل کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور کے فوسلز جب سمندر میں پانی بہت زیادہ اونچا تھا اور جنوبی امریکہ کی زمینوں میں کوئی آنے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا کہ کا مطالعہ ایسے ہیں جیسے ارتقا کے بہت سارے تجربات کا ایک ساتھ مطالعہ کیا جا رہا ہو۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…