منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کی جمہوریت پر اجتماعی خودکش حملہ کیا گیا،مولانا فضل الرحمان

datetime 8  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد۔۔۔۔ جمعیت علمائے (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 21 ویں آئینی ترمیم منظور کرکے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں نے ملک کی جمہوریت پر اجتماعی خودکش حملہ کیا ہے۔اسلام آباد میں مختلف دینی جماعتوں کے قائدین کے ہمراہ آئینی ترامیم پر ہونے والی مشاورت کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ اور آئین میں کی گئی 21 ترمیم امتیازی ہے، اس قانون کے ذریعے کئی دہشت گردوں گروپوں کو بچ نکلنے کا راستہ دیا گیا۔ یہ قانون دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دینے کا سبب بن رہا ہے۔ مشاورت میں شامل تمام جماعتوں کا ماننا ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جو ہر طرح کی دہشت گردی کا احاطہ کرے اور اسے ختم کرنے کا سبب بنے، فوجی عدالتوں کے سامنے تمام اقسام کی دہشت گردی کی صورتیں آئیں لیکن جو آئینی ترامیم پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کا جمہوریت پر خودکش حملہ کیا ہے، یہ تاریخ کی بہت بڑی غلطی ہے، ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم متحد ہورہی تھی لیکن اس سے پوری قوم تقسیم ہوگئی۔
جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شامل تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آئینی ماہرین کی رہنمائی لی جائے تاکہ آئینی زبان میں اس ترمیم کے نقصانات قوم کے سامنے رکھے جائیں اور دلیل کی بنیاد پر قوم کو سمجھایا جائے، مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ 22 جنوری کو قومی سیمینار منعقد کیا جائے جس میں اس امتیازی قانون کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ ملک باہمی تقسیم کا متحمل نہیں ہوسکتا، دہشت گردی کے خلاف ہمارے موقف کو سمجھا جائے، اس قانون کے ذریعے دہشت گردوں کو بچ نکلنے کا راستہ دیا گیا ہے، کوئی شخص اگر پہلے داڑھی اور پگڑی میں جرم کرتا ہو تو اب اس قانون کے تحت اس کے لئے داڑھی اور پگڑی کے بغیر ان ہی جرائم کا ارتکاب جائز ہوجائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ماضی میں کراچی میں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے ادوار حکومت میں بھی فوجی آپریشن ہوچکے ہیں اور آج بھی شہر قائد میں رینجرز کارروائیاں کررہی ہے، بلوچستان میں بھی پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بند آزما ہیں۔ ایسی صورت حال میں کچھ تنظیموں کو فوجی عدالتوں سے ماورا قرار دینے سے قومی وحدت پارہ پارہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے پوری دنیا کو ملیا میٹ کردیا لیکن اب تک دہشت گردی اور انتہا پہسندی کی تعریف نہیں کی جاسکی۔پارلیمنٹ کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے جے یو آئی (ف) کی حکومت سے علیحدگی کا کہنے والے پہلے خورشید شاہ سے پوچھیں کہ ان کی جماعت حکومت میں کب شامل ہورہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…