ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کا الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ

datetime 3  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پانچویں قسط سے متعلق مذاکرات کے دوران الیکٹرک گاڑیوں پر کم شرحِ سیلز ٹیکس عائد کرنے کے معاملے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت الیکٹرک گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات پر 17 یا 18 فیصد کے بجائے صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، جسے آئی ایم ایف نے امتیازی سہولت قرار دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مؤقف کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں اور ان کے اسپیئر پارٹس کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 18 فیصد کردی جائے۔

ذرائع کے مطابق اگر ٹیکس کی شرح میں یہ اضافہ نافذ ہوگیا تو ایک کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑی پر موجودہ ایک لاکھ روپے کے بجائے تقریباً 18 لاکھ روپے سیلز ٹیکس عائد ہوسکتا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو لگژری اشیا کے زمرے میں دیکھا جانا چاہیے، اس لیے ان پر سیلز ٹیکس میں خصوصی رعایت برقرار رکھنا مناسب نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے اعتراضات کے بعد حکومت کی جانب سے نئی آٹو پالیسی کے مسودے میں بعض تبدیلیاں کیے جانے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…