اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پانچویں قسط سے متعلق مذاکرات کے دوران الیکٹرک گاڑیوں پر کم شرحِ سیلز ٹیکس عائد کرنے کے معاملے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت الیکٹرک گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات پر 17 یا 18 فیصد کے بجائے صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، جسے آئی ایم ایف نے امتیازی سہولت قرار دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مؤقف کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں اور ان کے اسپیئر پارٹس کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 18 فیصد کردی جائے۔
ذرائع کے مطابق اگر ٹیکس کی شرح میں یہ اضافہ نافذ ہوگیا تو ایک کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑی پر موجودہ ایک لاکھ روپے کے بجائے تقریباً 18 لاکھ روپے سیلز ٹیکس عائد ہوسکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو لگژری اشیا کے زمرے میں دیکھا جانا چاہیے، اس لیے ان پر سیلز ٹیکس میں خصوصی رعایت برقرار رکھنا مناسب نہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے اعتراضات کے بعد حکومت کی جانب سے نئی آٹو پالیسی کے مسودے میں بعض تبدیلیاں کیے جانے کا امکان ہے۔



















































