پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وزارت پٹرولیم کے افسران کی کاہلی سے قومی خزانے کوبھاری نقصان

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے افسران کی کاہلی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ملک میں گیس کمپنیوں کی پیداوار اور فروخت میں بہت بڑے فرق کا انکشاف ہوا ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا، آڈٹ حکام نے ملکی خزانے جو پہنچنے والے اس نقصان کی ریکوری کیلیے سخت اقدامات کرنے کی سفارش کر دی ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے صدر مملکت اور قومی اسمبلی کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مائنز،آئل فیلڈ ریگولیشن و منرل ڈیولپمنٹ ایکٹ 1948کے رولز 36ا?ف پاکستان پٹرولیم رولز 1986کے مطابق اگر کسی کمپنی کو لیز دی جاتی ہے تو اسے پٹرولیم پروڈکشن اور محفوظ کی جانے والی گیس ویل ہیڈ ویلیو کا 12.5 فیصد رائلٹی کی مد میں حکومت کو ادا کرنا ہو گا،۔
ڈی جی پی سی اسلام آباد نے مالی سال 2013-14کے دوران اوجی ڈی سی ایل کی طرف سے فروخت کی جانیوالی گیس کی مقدار، پیداوار اور محفوظ کی جانے والی گیس کے درمیان فرق کو شمار نہیں کیا،گیس کی اتنی بڑی مقدار پروڈیوس اورمحفوظ نہیں کی گئی جتنی بڑی مقدار میں اس کی فروخت کو ظاہر کیا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے گیس کی پروڈکشن اور فروخت کے لیے صرف 6 فیلڈ ا?پریٹرز کا جائزہ لیا گیا جس کے نتیجے میں 1ارب 2کروڑ 55 لاکھ سے زائد خطیر رقم رائلٹی کی مد میں کم وصول ہوئی، اس خرابی کو دسمبر 2014میں متعلقہ ڈپارٹمنٹ کو پوائنٹ ا?و¿ٹ کیا گیا لیکن ڈپارٹمنٹ نے ابھی تک اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد ڈی اے سی کی میٹنگ کا انعقاد ہوا تو یہ مسئلہ اٹھایا گیا اور ڈی جی پی سی سے ملکی خزانے کو پہنچنے والے نقصان پر تفصیلی جواب 15روز میں طلب کیا گیا لیکن ڈی جی پی سی نے بھی کسی قسم کا کوئی جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ گیس کی پیداوار اور اس کی فروخت کے بارے میں او جی ڈی سی ایل سے نئے سرے سے صرف ان 6 فیلڈ ا?پریٹرز بلکہ ملک بھر کی فیلڈ آپریٹرز کا تفصیلی جواب مانگا جائے، اگر او جی ڈی سی ایل جواب دینے میں ناکام رہتا ہے تو قومی خزانہ کی ضائع ہونے والی ساری رقم اس سے وصول کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…