ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سولہ نومبر کو پھراسلام آباد میںپارلیمنٹ کے سامنے دھرنا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)فاٹا کے عوام نے سولہ نومبر کو اسلام آباد میںپارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کی دھمکی دیدی،وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایف سی آر کے کالے قانون کوختم کرے اورقبائلیوں کوبھی ملک کے دیگرشہریوں کی طرح حقوق دیئے جائیں۔خیبرایجنسی شاہ کس میںفاٹا کو خود مختار بنانے کے لیے گرینڈ قبائلی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں فاٹا کی سات ایجنسیوںسے بڑٰ ی تعداد میں قبائلی عوا م نے شرکت کی اس موقع پر مقرین سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی اتحاد کے صدر حضرت ولی کا کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد سے ابتک قبائل کو تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہیں۔ایف سی آر نے قبائلیوں سے جینے کاحق چین لیا ہے ،،اگر انگزیز دور کا بنایا ہوا قانو ن عوام کے مفاد کے لیے بہتر ہیں تو پھر سے اسلام آباد سمت پورے ملک میں حکمران کیو ں نافذ نہیں کرتے۔وقت کا تقاضا ہے کے آئین کے آریٹکل 247اور ایف سی آر جسے کالے قانون کو ختم ہونا چاہیے۔جس خلاف فاٹا کی تمام اقوام نے علم بغاوت بلند کر لیا ہے۔ایف سی آر فرسودہ ںنظام کے خلاف سولہ نومبر کو اسلام آباد میں ڈی چوک میں احتجاجی دھرنہ دیا جائے گا ۔اس موقع پر فاٹا لائیز فور م کے صدر عبدالرحیم نے کہا کہ فاٹا کی عوام اپنے حقوق حاصل کرنے کےلئے گزشتہ 67سالوں سے مسلسل جدجہد کر رہی ہیںلیکن آج تک انکو پاکستان کی شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔اور نہ ہی انہیں بہتر سہولیات فراہم کی گئی پوری دنیا میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ قبائلی دہشت گرد ہے لیکن پاکستان سے محبت اور سب سے زیادہ قربانیاں بھی قبائلی عوام نے دی ہیں۔ملک میں امن کے لیے لاکھوں خاندان بے گھر ہو کر آئی ڈی پیز بن گئے ہیںلیکن پھر بھی انکو پاکستان کا حصہ نہیں مانا جاتا۔انگریز تو کئی سال پہلے ملک سے چلے گئے لیکن انکا بنایا ہوا قانون آج تک پورے فاٹا میں لاگو ہیں۔فاٹا کو تبدیل کر ے مالاکنڈ ایجنسی کی طرح کی حیثیت دی جائے اوراسے پاٹا بنایاجائے ۔خیبر ایجنسی کے سینٹر شاہ جی گل نے کہا کہ ملک میں امن کے لیے قربانی دینے والے آئی ڈی پیز کی واپسی جلد مکمن بناکرانکی دوبارہ سے آبادکاری کی جائے ،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو انکی اپنی حیثیت دی جائے ۔فاٹا کے منتخب نمائندے قومی اسمبلی میں پورے ملک کے لیے قانون سازی تو کرتے ہیں لیکن اپنے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔اپنے بنیادی حقو ق حاصل کرنے کے لیے قبائیلوں کو سخت جد جہید کرنا ہوگی18ویںترمیم میں بھی فاٹا کو محروم رکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا سولہ نومبرکو مردان موٹروے انٹر چینچ میں تمام قبائلی جع ہو کر اسلام آبادکے لیے روانہ ہوگے اور ڈٰ ی چوک میں احتجاجی دھرنہ دیا جائے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…