بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نئی گاڑی خریدنے والوں کے لیے اہم تبدیلی

datetime 17  جولائی  2026 |

لاہور (نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت نے نئی گاڑیوں کی خریداری کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ اب ہر نئی گاڑی خریدار کے حوالے کرنے سے قبل اس کی سرکاری رجسٹریشن مکمل کرنا لازمی ہوگی۔

اس فیصلے کے بعد بغیر رجسٹریشن کوئی بھی نئی گاڑی شوروم سے ڈیلیور نہیں کی جا سکے گی۔

نئی پالیسی پر ڈائریکٹر جنرل ایکسائز پنجاب عمر شیر چٹھہ کی ہدایت کے بعد فوری عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام آٹو موبائل کمپنیوں، مجاز ڈیلرز اور موٹر رجسٹریشن برانچوں کو پابند کیا گیا ہے کہ گاڑی کی فروخت سے پہلے رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں۔

اس پالیسی کے تحت پنجاب کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ رکھنے والے خریداروں کو گاڑی کے ساتھ رجسٹریشن دستاویزات، سرکاری نمبر پلیٹ اور دیگر قانونی کاغذات ایک ہی وقت میں فراہم کیے جائیں گے، جس سے انہیں بعد میں ایکسائز دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔

حکومت نے مجاز ڈیلرشپس کو ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم (DVRS) کے ذریعے رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اس مقصد کے لیے گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی تمام مجاز ڈیلرشپس کی تفصیلات ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ انہیں ڈی وی آر ایس لائسنس جاری کیے جا سکیں۔

ایکسائز حکام کے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں 102 ڈیلرشپس اس نظام کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور خریداروں کو موقع پر رجسٹریشن کی سہولت فراہم کر رہی ہیں، جبکہ اس نیٹ ورک کو مزید توسیع دینے پر بھی کام جاری ہے تاکہ پورے صوبے میں یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو سکے۔

فی الحال ہر نئی گاڑی کی رجسٹریشن پر ڈیلرشپس 2 ہزار روپے سروس فیس وصول کر رہی ہیں، تاہم اس فیس میں معمولی اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ ڈیجیٹل رجسٹریشن نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی سے رجسٹریشن کا عمل زیادہ شفاف ہوگا، سرکاری محصولات، رجسٹریشن فیس اور ٹوکن ٹیکس کی بروقت وصولی ممکن ہوگی، جبکہ شہریوں کو ایک ہی مقام پر تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کی سہولت بھی میسر آئے گی۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ نئی ہدایات پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں اور مجاز ڈیلرشپس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…