اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) قطر میں مقیم پاکستانی بینکار ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے ایف بی آر کی جانب سے رقم منتقل کیے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد
انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر انصاف اور مداخلت کی درخواست کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ارسلان آدم نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 23 جون 2026 کو انہیں پاکستان میں موجود اپنے بینک کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ایف بی آر نے انہیں ٹیکس نادہندہ قرار دیتے ہوئے ان کے اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ ان کے مطابق اگلے ہی روز یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے ان کے اکاؤنٹ میں موجود تقریباً 70 لاکھ روپے ایف بی آر کو منتقل کر دیے۔
ارسلان آدم کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً 24 برس سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اس وقت قطر کے دوحہ بینک میں ہیڈ آف آپریشنز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے خط میں بتایا کہ وہ 2016-17 سے باقاعدگی سے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے جب ان کی سرمایہ کاری کے ذرائع کے بارے میں وضاحت طلب کی تو انہوں نے اپنی بیرونِ ملک ملازمت اور پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کے تمام دستاویزی شواہد فراہم کیے، تاہم ان کے بقول متعلقہ ادارے نے ان وضاحتوں کو قبول نہیں کیا۔
ارسلان آدم نے دعویٰ کیا کہ اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے بعد اب ان کی جائیداد کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے اپیل کی کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ ایسا رویہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے، لہٰذا اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ان کی رقم واپس دلائی جائے۔
دوسری جانب ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ارسلان آدم کو قانون کے مطابق ٹیکس واجبات کے حوالے سے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق ان پر دو کروڑ 26 لاکھ 26 ہزار 450 روپے کے ٹیکس بقایاجات واجب الادا ہیں اور بینک اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی ٹیکس قوانین کے تحت کی گئی کارروائی کا حصہ ہے۔
ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ تمام اقدامات مروجہ قانونی ضوابط کے مطابق کیے گئے ہیں، جبکہ ارسلان آدم اس کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر مداخلت کے خواہاں ہیں۔



















































