اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آٹھ سال کی بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مرکزی ملزم محمدارسلان کی پولیس مقابلہ میں ہلاکت کے بعد اس کی تدفین ایک مسئلہ بن گئی۔
شہریوں کا شدید ردعمل سامنے آیا اور قبرستانوں کے منتظمین نے تدفین کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ 24نیوز کے مطابق ملزم کی نعش پوسٹ مارٹم کے بعد مختلف علاقوں میں تدفین کے لئے لے جائی گئی لیکن کسی بھی قبرستان کے منتظمین نے اس بدکردار شخص کی میت کو دفن کرنے کی اجازت نہیں دی۔
شہریوں نے اس کے جنازے اور تدفین میں شرکت سے گریز کیا۔ کمسن بچی کے بہیمانہ قتل پر شہر بھر میں غم و غصہ برقرار ہے۔ تاہم بعد میں ملزم کو 58 شمالی قبرستان میں دفن کیا گیا ۔ 7 افراد نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔



















































