اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے کابینہ میں وسیع پیمانے پر ردوبدل کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، جس کے تحت کئی اہم وزارتوں میں تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد جون کے آخری دنوں یا جولائی کے آغاز میں نئی تقرریوں اور وزارتوں کی تنظیمِ نو کا اعلان متوقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکومت معاشی امور سے وابستہ ٹیم میں بھی تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ امکان ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو دوبارہ وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں سونپی جائیں، جبکہ وہ اپنا موجودہ عہدہ بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کے لیے محسن نقوی کا نام زیر غور ہے۔ اگر یہ فیصلہ کیا گیا تو وہ بیک وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہ سکتے ہیں۔
اسی طرح وزارت داخلہ کے لیے رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ کے ناموں پر غور جاری ہے۔ حکومت مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئندہ مرحلے میں انتظامی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اخراجات میں کمی اور انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے وزارتوں اور ڈویژنز کی تعداد کم کرکے تقریباً 32 تک محدود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
منصوبے کے تحت وزارت اطلاعات و نشریات میں ثقافت کا شعبہ شامل کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ وزارت دفاع، وزارت دفاعی پیداوار اور وزارت بحری امور کو ایک ہی انتظامی ڈھانچے میں لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں پوسٹل سروسز کو وزارت مواصلات کے ماتحت کرنے اور انسدادِ منشیات کے ادارے کو وزارت داخلہ کے تحت چلانے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مجوزہ تبدیلیوں پر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے۔ نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہم حلقوں کو بھی اعتماد میں لینے کا عمل جاری ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق کابینہ اور وزارتوں کی تنظیمِ نو کے فیصلوں کے پیچھے مالیاتی نظم و ضبط، انتظامی اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کی جانب سے اصلاحاتی اقدامات پر زور بھی اہم عوامل میں شامل ہیں۔



















































