پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

چکوال میں جاں بحق بچی کے والد کا مبینہ آڈیو بیان سامنے آگیا، کیس ہائی پروفائل ڈکلیئر

datetime 15  جون‬‮  2026 |

چکوال(این این آئی)چکوال میں جاں بحق بچی کے والد کا مبینہ آڈیو بیان سامنے آگیا، کیس کو ہائی پروفائل ڈکلیئر کردیا گیا۔

آڈیو بیان میں بچی کے والد عدیل احمد کہہ رہے ہیں کہ حج کی ادائیگی بعد فیملی کے ہمراہ پاکستان آیا، واپسی 10جون کی صبح تھی، ہمیں ڈاکو لوٹ رہے تھے اور فائرنگ ہوگئی۔چکوال میں 10جون کو سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچی جاں بحق ہوگئی تھی، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچی کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لے لیا۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے چکوال فائرنگ کیس کو ہائی پروفائل کیس ڈکلیئر کر دیا اور مکمل ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق والد کا بیان خصوصی تفتیشی ٹیم نے بینظیر بھٹو اسپتال میں قلم بند کیا، جبکہ فائرنگ کرنے والے اہلکار کا تھانا سی سی ڈی میں حاضری ریکارڈ بھی چیک کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس کانسٹیبل سے فائرنگ میں استعمال سرکاری بندوق برآمد کرلی گئی ہے، کانسٹیبل سے تفتیش مکمل ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔کانسٹیبل کو علاقہ مجسٹریٹ نے جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیجا ہے، عدالت نے 26جون کو مقدمہ کا چالان طلب کرلیا، جبکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول فارنزک ٹیسٹ کیلئے لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ خاندان سے ڈکیتی کرنے والے دونوں ڈاکو مبینہ مقابلہ میں ہلاک ہوگئے، ڈاکوں کی شناخت محمد فیاض اور محمد عباس کے نام سے ہوئی۔ہلاک ڈاکو ریکارڈ یافتہ، پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھے، ڈاکو بچی کے جاں بحق ہونے کے اگلے دن پولیس مقابلہ میں ہلاک ہوئے۔خیال رہے کہ معصوم حانیہ کے جاں بحق ہوجانے کے بعد سی سی ڈی سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی جانب سے غلطی کا اعتراف بھی کر لیا گیا۔ اب متاثرہ خاندان کا سوال یہ ہے کہ ننھی حانیہ کو انصاف مل پائے گا یا نہیں؟ شہری پوچھتے ہیں شہر کا امن و امان لوٹانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟10جون کی رات 2مسلح ڈاکوؤں نے 4گھنٹوں میں چکوال میں ایک نہیں 5 مختلف مقامات پر چھوٹی بڑی وارداتیں کیں، آخری واردات عین سی سی ڈی تھانہ کے باہر ہوئی جہاں سی سی ڈی اہلکار کے ہاتھوں بنا سوچے سمجھے فائرنگ کے نتیجے میں 9سالہ حانیہ عدیل نے جان گنوا دی، اس کا بھائی اور والد اب بھی زیر علاج ہیں۔حانیہ عدیل کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ اس کے والد کی مدعیت میں بھی درج کیا گیا ہے، پہلے اس میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، یعنی غلطی یا لاپرواہی کی وجہ سے کسی کی جان چلے جانا تاہم ذرائع کے مطابق بعد ازاں مدعیان کے اصرار پر اس میں دفعہ 302 بھی شامل کرلی گئی ہے۔سربراہ سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان کے گھر گئے، غلطی کا اعتراف کیا اور ادارے میں ایس اوپیز مزید سخت ہونے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…