اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے
پاکستانی یوٹیوبرز، انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز پر 5 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عندیہ دیا ہے کہ حکومت مستقبل میں سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کی سمت پیش رفت جاری رکھے گی۔
پیر کے روز ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل ہونے والی کمائی پر ابتدائی طور پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
کمیٹی کے رکن سلیم مانڈوی والا نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے بیرون ملک سے آنے والی رقوم متاثر ہو سکتی ہیں اور لوگ قانونی ذرائع کے بجائے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی رقم بھی ایک باقاعدہ آمدن ہے، لہٰذا اسے دیگر ذرائع آمدن کی طرح ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل معیشت کو بھی ملکی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بحث اور مختلف آراء سننے کے بعد کمیٹی نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز کی توثیق کر دی۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سپر ٹیکس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہدف مرحلہ وار اس ٹیکس کو ختم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر سال مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
اس موقع پر سینیٹر عبدالقادر نے تجویز دی کہ سپر ٹیکس سے استثنیٰ کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کی جائے۔ تاہم چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اگر یہ حد ایک ارب روپے تک بڑھائی گئی تو قومی خزانے کو ہونے والے خسارے کے ازالے کے لیے تقریباً 250 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات کرنا پڑیں گے۔



















































