کراچی (نیوز ڈیسک): متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فاروق ستار نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے اس فیصلے کے پس منظر میں اہم وجوہات کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھولنا اور اسے عوامی گورنر ہاؤس بنانا جرم سمجھا جاتا ہے تو وہ یہ کام بار بار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کامران ٹیسوری کو گل پلازہ کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت چکانی پڑی۔ ان کے بقول اس معاملے میں انہوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور کامران ٹیسوری نے بھی اپنی ذمہ داری نبھائی۔فاروق ستار نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ درست نہیں تھا کیونکہ کامران ٹیسوری وفاق کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مختلف محکموں پر مخصوص عناصر کا قبضہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے پس منظر میں بعض حقائق سامنے آنے والے تھے اور کچھ عرصے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ کامران ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانا ایک غلط فیصلہ تھا۔ ان کے مطابق 17 برس کی بدترین حکمرانی کے راز کھلنے والے تھے، اسی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی اس صورتحال پر غور کرنا ہوگا کیونکہ گورنر سندھ کو ہٹانے کے فیصلے میں پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا حکومت میں رہنا ہے یا نہیں، جبکہ عوام بھی احتجاج کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔



















































