اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینیٹ اجلاس کے دوران حکومت نے افغانستان میں کی گئی فضائی کارروائی سے متعلق اپنا سرکاری مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ افغانستان نے مبینہ طور پر طالبان کو کسی دوسری سرحدی علاقے منتقل کرنے کے بدلے پاکستان سے 10 ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا۔وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے افغان حکام کو جواب دیا تھا کہ پاکستان رقم دینے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ کارروائی کے دوران افغانستان کے تین مختلف صوبوں میں مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا، اور یہ اقدام کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے واضح وجوہات تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان متعدد بار افغان حکام سے مطالبہ کر چکا تھا کہ ان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں ہونے والے حملوں کے روابط افغانستان سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف نقصان اٹھانے کے لیے نہیں بلکہ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، اور اسی تناظر میں 21 فروری کو پاک فضائیہ نے کارروائی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے کئی واقعات افغان سرزمین سے منسلک عناصر کی مدد سے ہوئے، جن میں ترلائی مسجد حملہ اور بنوں و باجوڑ کے خودکش دھماکے شامل ہیں، جہاں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے۔ ان کے مطابق افغان طالبان سے مذاکرات میں ٹھوس یقین دہانی نہ ملنے کے بعد کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
وزیر پارلیمانی امور نے واضح کیا کہ حملوں کا ہدف صرف دہشت گردوں کے ٹھکانے اور تربیتی مراکز تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔



















































