بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

وزیر اعلی سندھ کا گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر، ہر دکان دار کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان

datetime 23  جنوری‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے ہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دینے اور گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا ہے۔سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازہ سانحے نے پورے ملک کو غمگین کر دیا، میں آج اس ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں، ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کچھ کرنا ہوگا، اس واقعے میں ٹوٹل 88 مسنگ لوگ رپورٹ ہوئے ان میں سے کچھ کی رپیٹیشن ہوئی 82 کا عدد درست تھا، اس وقت تک 67 باڈیز برآمد ہوچکی ہیں اور اب بھی 15 لوگ لاپتا ہیں جب کہ 15 لوگوں کا ڈی این اے ہوچکا ہے اور 52 لوگوں کا ڈی این اے پراسس چل رہا ہے باڈیز کی شناخت کروا کہ کہ لواحقین لے حوالے کی جائیں گی۔

انہوںنے کہا کہ گل پلازہ کا واقعہ دس بج کر چودہ منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان پر آگ لگنے سے پیش آیا، دس بجکر چھبیس منٹ پر فائر بریگیڈ کو کال آئی، کمی یا کوتاہیوں پر مکمل انکوائری ہو رہی ہے، اس سانحے کا مقدمہ درج ہوگا، ریسکیو 1122 کو دس بج کر چھتیس منٹ پر کال گئی، آگ کے 16 منٹ بعد حکومتی نمائندہ ڈی سی ساؤتھ واقعے کی جگہ پہنچ گیا، مجھے کسی کی نیت پر شک نہیں لیکن اس پر سیاست کسی کو نہیں کرنی چاہیے تھی، اٹھارویں ترمیم والے بیانات کے بعد کیا محرکات ہیں کچھ بتاؤں گا۔وزیر اعلی سندھ کی تقریر کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ سی ایم صاحب غلط بیانی کر رہے ڈی سی نہیں پہنچا تھا۔وزیراعلی نے کہا کہ کہنا نہیں چاہتا تھا مگر چور کی ڈاڑھی میں تنکا، کی ایم سی نے گل پلازہ کی لیز منظور کی تھی، اس وقت کی ایم سی میں کون تھا؟ اسی کی دہائی میں گل پلازہ کا تعمیراتی کام مکمل ہوا، گل پلازہ کی لیز کو آٹھ سال بعد ری نیو کیا گیا، سال 1991 میں کی ایم سی نے گل پلازہ کی لیز میں توسیع کی، اٹھارویں ترمیم سے پہلے کا گند ہم اب تک صاف کر رہے ہیں، 1991 میں میئر کون تھا؟ پہلے نعمت اللہ خان تھے پھر فاروق ستار تھے اس وقت کے میئر نے لیز منظور کی، 1979 میں گل پلازہ کو بیسمنٹ گرانڈ اور دو فلور کی منظوری دی گئی تھی، دو ہزار ایک میں اٹھارویں ترمیم اور پیپلز پارٹی نہیں تھی، اس وقت ایک آرڈیننس آیا کہا گیا کہ جتنی بھی عمارتوں میں ارریگیورلٹیز ہیں ان کو ریگیورلائیز کروائیں، کاغذات میں پلازہ کے جتنے خارجی راستے موجود ہیں اتنے اس وقت موجود نہیں تھے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ایسے سانحے کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا میرے لیے ایک بڑے جرم کے برابر ہے، حکومت پر تنقید کریں لیکن سیاست نہیں کریں، ہفتے والے دن واقعہ ہوا میں نے پیر کو اجلاس بلایا اور کمیٹی بنائی، جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کو سزا ملے گی، حکومتی اداروں کی اگر غفلت ہے تو ان کو بھی سزا ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پہلے دن ہی کراچی میں تین بڑے واقعات ہوئے ہیں، بولٹن مارکٹ، ٹمبر مارکٹ اور کو آپریٹو مارکٹ میں واقعہ ہوا، اس وقت صدر زرداری نے وفاقی حکومت سے تاجروں کو معاوضہ دلایا، شہدا کے لیے ایک کروڑ کا اعلان کیا تھا وہ پیسے ریلیز کرائے اسی طرح یہاں بھی کمشنر کراچی شناخت کے بعد پیسے لواحقین کے حوالے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ تاجروں کا نقصان پورا کرے گی، 1102 دکانیں ایس بی سی اے سے منظور شدہ تھیں، تمام دکانیں کے عوض معاوضہ دیں گے، ہر دکان کے مالک کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے جو کہ کراچی چیمبر کے ذریعے دیے جائیں گے، ہمارے پاس ایک بلڈنگ میں پانچ سو اور دوسری بلڈنگ میں ساڑھے تین سو دکانیں موجود ہیں، ان مالکان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک سال تک کرایہ نہ لینے کا اعلان کیا۔سی ایم نے کہا کہ جن کے پاس دکانیں موجود تھیں ان کو پیسے دیے جائیں گے، دو سال تک ہم تاجروں کو کاروبار کے لیے دکان مہیا کریں گے، متاثرین کے لیے سیکیورٹی سندھ حکومت دے گی، ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ جو تاجر لینا چاہے وہ ملے گا اور سود حکومت سندھ بھرے گی، گل پلازہ کو گرانا پڑے گا، کوشش کریں گے دو سال میں گل پلازہ کو تیار کرکے دکانیں بنائیں اور تاجروں کے حوالے کریں۔

وزیراعلی کا کہنا تھا کہ دو ماہ میں عارضی دکانوں کا انتظام کردیں گے، گل پلازہ کو اپنی اصل شکل میں واپس لایا جائے گا، کی ایم سی نے جو بلڈنگز کا آڈٹ کیا، وہ خط سی ایم تک بالکل پہنچا تھا لیکن اس وقت سی ایم میں نہیں تھا، سول ڈیفنس کا ادارہ ہوم ڈپارٹمنٹ کے انڈر ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے تمام اداروں کو ایک ساتھ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں نے وفاقی وزیر کامرس سے کہا ہے ہمارے پاس انشورنس کا نظام نہیں ہے میں نے کہا ہے کہ انشورنس کے لیے قانون سازی تیار کریں غلطی بتانے پر ہم چھوٹے نہیں ہوجائیں گے، ہم خوش ہوں گے لیکن خفیہ ایجنڈا نہیں چلنے دیں گے، قومی اسمبلی میں بیٹھ کر کہا گیا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ وفاق صوبے کو آکر کنٹرول کرسکتا ہے، کوشش کریں گے اٹھارویں ترمیم سے پہلے جو گند تھا اسے صاف کردیں۔وزیر اعلی سندھ کی تقریر ختم ہونے کے بعد ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے رکن نشستوں پر کھڑے ہوگئے جس پر اسپیکر نے انہیں کہا کہ آپ لوگ بیٹھ جائیں اور رولز پڑھیں، اراکین کو وقت ملے گا مجھے ڈکٹیٹ نہ کریں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…