پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ملازمین کو کم سے کم اجرت 37 ہزار نہ دینے والوں کی گرفتاریاں

datetime 23  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، اور اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق اگرچہ کم از کم اجرت کے تعین کا اعلان ہو چکا ہے، لیکن بیشتر ادارے اس ہدایت پر عمل نہیں کر رہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ ملازمین کو ان کا جائز حق دلایا جا سکے۔

گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر رورل، فہد شبیر نے غوری ٹاؤن کے ایک نجی ریسٹورنٹ پر چھاپہ مارا، جہاں ملازمین کو مقررہ کم از کم تنخواہ ادا نہیں کی جا رہی تھی۔ اس موقع پر ریسٹورنٹ کے منیجر کو حراست میں لے لیا گیا۔اسی طرح ایک اور کارروائی بلیو ایریا میں کی گئی، جہاں ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈز کو 37 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ سے کم دی جا رہی تھی۔ متعلقہ کمپنی کے منیجر کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سرکاری سطح پر طے شدہ کم از کم اجرت کے اطلاق کو یقینی بنائیں اور ایسے اداروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھیں جو ملازمین کو قانونی تنخواہ دینے میں کوتاہی برت رہے ہیں۔حکومتی سطح پر اس اقدام کا مقصد مزدوروں کو معاشی تحفظ فراہم کرنا اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…