منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

دیر سے سونے کی عادت نوجوانوں میں مو ٹاپے کی باث بنتی ہے

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) امریکی محققین کے مطابق بلوغت کی عمر سے نوجوانی کی عمر تک دیر سے بستر پرجانے کی عادت رکھنے وا لے نوجوانوں میں اپنے ہم عمر نوجوانوں کے مقابلے میں وزن میں اضافے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ایک نئے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ نو عمری میں رات دیر سے بستر پر جانے کی عادت آگے چل کر نوجوانوں کے وزن پر اثر انداز ہوتی ہے اور موٹاپے کا سبب بنتی ہے۔ ماہرین نے بیڈ ٹائم اور نوجوانوں کے وزن کے درمیان گہرا تعلق تلاش کیا ہے۔امریکی محققین کے مطابق بلوغت کی عمر سے نوجوانی کی عمر تک دیر سے بستر پر جانے کی عادت رکھنے والے نوجوانوں میں اپنے ہم عمر نوجوانوں کے مقابلے میں وزن میں اضافے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔بیڈ ٹائم میں بے قاعدگی کے اثرات اور موٹاپے کے درمیان تعلقات کی جانچ پڑتال کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بارکلے کے محققین کو نیند اور باڈی ماس انڈیکس یا ’بی ایم آئی‘ کے درمیان تعلق کا پتا چلا ہے۔بارکلے یونیورسٹی کے محققین نے 3,300 امریکی نوجوانوں اور بالغان کی صحت کے اعداد و شمار پر مبنی ایک قومی مطالعے کا تجزیہ کیا۔ ان کا کام امریکی رسالے ‘جرنل سلیپ’ کے اکتوبر کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ تحقیق کی مصنف پروفیسر لارین اسارناو¿ نے لکھا کہ اندازا پانچ سالہ مدت کے دوران ہر گھنٹے کی نیند کینقصان کیبدلے میں ایک بالغ نوجوان کے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں 2.1 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔بادی ماس انڈیکس معیاری وزن کا پیمانہ ہے جس میں قد کے لحاظ سے وزن کا کلو گرام میں تعین کیا جاتا ہے، ایک صحت مند بالغ شخص کا بی ایم آئی 18.5 سے 24.9 تک ہو سکتا ہے اور ’بی ایم آئی‘ زیادہ ہونے کا مطلب قد اور وزن کی پیمائش میں عدم توازن یا موٹاپا کہلاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ورزش، اسکرین کے اوقات اور حتی کے رات کی نیند کے گھنٹوں کی تعداد سے بھی وزن میں اضافے کو کم نہیں کیا جا سکا تھا۔مصنف لورین نے لکھا کہ مطالعے میں ناصرف نوجوانوں کی کل نیند کیگھنٹوں بلکہ بیڈ ٹائم کو بھی بلوغت سے نوجوانی میں منتقلی کے دوران معیاری وزن برقرار رکھنے کے لیے ایک ممکنہ ہدف کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے مشاہدے کے دوران امریکی محققین نے 1994 کے ایک مطالعہ کا تجزیہ کیا، جو نوجوانوں کے سونے کی عادات اور ان کے طرزعمل کیاعدادوشمار پر مشتعمل تھا۔ مطالعے کے نتائج سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ بہت سے نوجوان رات کی آٹھ سے نو گھنٹے کی نیند لینے میں ناکام تھے اور انھیں اسکول میں جاگتے رہنے میں دقت کا سامنا تھا۔محققین نے بتایا کہ انسان کی حیاتیاتی گھڑی سرکیڈین ردھم بلوغت کی عمر کےآغاز سیعام طور پر سونیکیسائیکل کو آگے بڑھا دیتی ہے۔نتائج میں محقق لورین نے مشورہ دیا ہے کہ جو بچے بلوغت کی عمر میں جلدی بستر پر جائیں گے وہ ایک بالغ نوجوان کی حیثیت سے صحت مند وزن حاصل کرسکیں گے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…