اسلام آباد(نیوزڈیسک) امریکی محققین کے مطابق بلوغت کی عمر سے نوجوانی کی عمر تک دیر سے بستر پرجانے کی عادت رکھنے وا لے نوجوانوں میں اپنے ہم عمر نوجوانوں کے مقابلے میں وزن میں اضافے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ایک نئے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ نو عمری میں رات دیر سے بستر پر جانے کی عادت آگے چل کر نوجوانوں کے وزن پر اثر انداز ہوتی ہے اور موٹاپے کا سبب بنتی ہے۔ ماہرین نے بیڈ ٹائم اور نوجوانوں کے وزن کے درمیان گہرا تعلق تلاش کیا ہے۔امریکی محققین کے مطابق بلوغت کی عمر سے نوجوانی کی عمر تک دیر سے بستر پر جانے کی عادت رکھنے والے نوجوانوں میں اپنے ہم عمر نوجوانوں کے مقابلے میں وزن میں اضافے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔بیڈ ٹائم میں بے قاعدگی کے اثرات اور موٹاپے کے درمیان تعلقات کی جانچ پڑتال کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بارکلے کے محققین کو نیند اور باڈی ماس انڈیکس یا ’بی ایم آئی‘ کے درمیان تعلق کا پتا چلا ہے۔بارکلے یونیورسٹی کے محققین نے 3,300 امریکی نوجوانوں اور بالغان کی صحت کے اعداد و شمار پر مبنی ایک قومی مطالعے کا تجزیہ کیا۔ ان کا کام امریکی رسالے ‘جرنل سلیپ’ کے اکتوبر کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ تحقیق کی مصنف پروفیسر لارین اسارناو¿ نے لکھا کہ اندازا پانچ سالہ مدت کے دوران ہر گھنٹے کی نیند کینقصان کیبدلے میں ایک بالغ نوجوان کے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں 2.1 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔بادی ماس انڈیکس معیاری وزن کا پیمانہ ہے جس میں قد کے لحاظ سے وزن کا کلو گرام میں تعین کیا جاتا ہے، ایک صحت مند بالغ شخص کا بی ایم آئی 18.5 سے 24.9 تک ہو سکتا ہے اور ’بی ایم آئی‘ زیادہ ہونے کا مطلب قد اور وزن کی پیمائش میں عدم توازن یا موٹاپا کہلاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ورزش، اسکرین کے اوقات اور حتی کے رات کی نیند کے گھنٹوں کی تعداد سے بھی وزن میں اضافے کو کم نہیں کیا جا سکا تھا۔مصنف لورین نے لکھا کہ مطالعے میں ناصرف نوجوانوں کی کل نیند کیگھنٹوں بلکہ بیڈ ٹائم کو بھی بلوغت سے نوجوانی میں منتقلی کے دوران معیاری وزن برقرار رکھنے کے لیے ایک ممکنہ ہدف کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے مشاہدے کے دوران امریکی محققین نے 1994 کے ایک مطالعہ کا تجزیہ کیا، جو نوجوانوں کے سونے کی عادات اور ان کے طرزعمل کیاعدادوشمار پر مشتعمل تھا۔ مطالعے کے نتائج سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ بہت سے نوجوان رات کی آٹھ سے نو گھنٹے کی نیند لینے میں ناکام تھے اور انھیں اسکول میں جاگتے رہنے میں دقت کا سامنا تھا۔محققین نے بتایا کہ انسان کی حیاتیاتی گھڑی سرکیڈین ردھم بلوغت کی عمر کےآغاز سیعام طور پر سونیکیسائیکل کو آگے بڑھا دیتی ہے۔نتائج میں محقق لورین نے مشورہ دیا ہے کہ جو بچے بلوغت کی عمر میں جلدی بستر پر جائیں گے وہ ایک بالغ نوجوان کی حیثیت سے صحت مند وزن حاصل کرسکیں گے۔
دیر سے سونے کی عادت نوجوانوں میں مو ٹاپے کی باث بنتی ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
ویکیوم کلینر کے ذریعے بیوی کا افیئر پکڑنے والا شوہر، خود بھی عجیب مشکل میں پھنس گیا
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یکدم بڑی کمی
-
لاہور کے چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر نے ’شیر‘ کے پنجرے میں چھلانگ لگادی
-
کراچی، ڈیلیوری آپریشن کے بعد ڈاکٹرز کا خاتون کے حمل سے انکار، اہل خانہ کا ہنگامہ، تحقیقات شروع
-
سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
-
راولپنڈی،قریبی عزیز کا خاتون کو ٹک ٹاک لائیو پر کام کے لیے سرگودھا سے بلاکر جتماعی زیادتی
-
پب جی موبائل کے کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد چل بسے، گیمنگ کمیونٹی سوگوار
-
رکشہ ڈرائیور نے جواں سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا ء کرکے زیادتی کا نشانہ بناڈالا



















































